نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

آکھری بدھ

سوال:

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ماہِ صفر کے آخری بدھ (آخری چہار شنبہ) کو بعض لوگ خوشی مناتے ہیں، خاص نمازیں پڑھتے ہیں، مخصوص کھانے پکاتے ہیں، سیر و تفریح کرتے ہیں، قبروں پر نیاز دلاتے ہیں اور یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اس دن رسول اللہ ﷺ بیماری سے شفا یاب ہوئے تھے؟ کیا اس کی شریعت میں کوئی اصل ہے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں۔

الجواب وباللہ توفیق 

ماہِ صفر کے آخری بدھ کو عید یا خوشی کا دن سمجھنا، اس دن کو شریعت کی طرف منسوب کرنا، یا یہ عقیدہ رکھنا کہ اس دن حضور نبی کریم ﷺ بیماری سے شفا یاب ہوئے تھے، شرعاً ثابت نہیں اور اس کی کوئی معتبر دلیل قرآنِ کریم، صحیح احادیث یا آثارِ صحابہ میں موجود نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«"جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی نئی بات پیدا کی جو اس میں نہیں تھی، وہ مردود ہے۔"»

📚 (صحیح بخاری: 2697، صحیح مسلم: 1718)

اور فرمایا:

«"بدترین کام وہ ہیں جو دین میں نئے ایجاد کیے جائیں، اور ہر بدعت گمراہی ہے۔"»

📚 (صحیح مسلم: 867)

بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ صفر کے آخری بدھ کو حضور اکرم ﷺ کو شفا حاصل ہوئی تھی، لیکن اس دعوے پر کوئی صحیح اور معتبر حدیث موجود نہیں۔ اگر بالفرض مرض میں کسی دن کچھ افاقہ ہوا بھی ہو، تو نہ رسول اللہ ﷺ نے اس دن کو ہر سال منانے کی تعلیم دی، نہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم، نہ تابعین اور نہ ائمۂ مجتہدین نے ایسا کیا۔

اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے سوال کیا گیا کہ صفر کے آخری بدھ کے دن عورتیں بطورِ سیر شہر سے باہر جائیں، قبروں پر نیاز دلائیں، کیا یہ جائز ہے؟

آپ رحمۃ اللہ علیہ نے جواب میں فرمایا:

«"(ایسا) ہرگز نہ ہو، (کیونکہ) اس میں سخت فتنہ ہے، اور چہار شنبہ (بدھ کا دن منانا) محض بے اصل ہے۔"»

📚 (فتاویٰ رضویہ، جلد 22، صفحہ 240)

اسی طرح حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

«"بعض لوگ صفر کے آخری چہار شنبہ (بدھ) کو خوشیاں مناتے ہیں کہ منحوس مہینہ چلا گیا، یہ بھی باطل ہے۔"»

📚 (مرآۃ المناجیح، جلد 6، صفحہ 257)

لہٰذا صفر کے آخری بدھ کو مخصوص فضیلت والا دن سمجھنا، اس دن خاص عبادات، نیاز، کھانے، سیر و تفریح یا دیگر رسم و رواج کو دینی عمل سمجھ کر انجام دینا جائز نہیں، کیونکہ یہ امور شریعت سے ثابت نہیں۔

البتہ اگر کوئی شخص اس دن عام دنوں کی طرح نفلی نماز، تلاوت، ذکر، دعا یا صدقہ کرے بغیر کسی مخصوص فضیلت یا رسم کا عقیدہ رکھے تو اس میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ یہ اعمال ہر دن مشروع ہیں۔

خلاصۂ کلام:

- صفر کے آخری بدھ کی کوئی مخصوص شرعی فضیلت ثابت نہیں۔
- اس دن کو خوشی، عید یا مخصوص عبادت کا دن سمجھنا درست نہیں۔
- قبروں پر نیاز دلانے یا مخصوص رسمیں ادا کرنے کو دینی عمل سمجھنا بے اصل ہے۔
- اس دن کے بارے میں پھیلی ہوئی غیر ثابت روایات سے بچنا ضروری ہے۔
- عام نیک اعمال ہر دن کی طرح اس دن بھی کیے جا سکتے ہیں، مگر اس دن کی کوئی خصوصی فضیلت نہ سمجھی جائے۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبہ:
مفتی ابو احمد ایم جے اکبری نوری قادری حنفی
خادم دارالافتاء گلزار طیبہ تحقیق سینٹر

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

حربی سے سود لینے کا حکم ؟ دارالافتاء گلزارِ طیبہ کی یہ علمی تحقیق نہایت دقیق، جامع اور بصیرت افروز ہے۔ اس میں جہاں امام ابو حنیفہؒ کے قول کا صحیح مفہوم واضح کیا گیا ہے، وہیں اس کے غلط استعمالات اور اس کے دینی، سماجی و بین الاقوامی مضمرات پر بھی مدلل کلام کیا گیا ہے۔ علمی و ادبی تاثرات: 1. محققانہ اسلوب: تحقیق کی بنیاد قرآنی آیات، صحیح احادیث اور فقہاء کی معتبر تشریحات پر رکھی گئی ہے۔ علامہ ابن قدامہ، علامہ سعیدی، امام ابن ہمام، امام شافعی، سرخسی وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال سے مزین یہ رسالہ اسلوبِ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ 2. فقہی توازن و اعتدال: تحقیق میں نہ صرف مختلف اقوال کا ذکر کیا گیا بلکہ ان کا تجزیہ بھی علمی انداز میں کیا گیا ہے، جو قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اصل مدعا کیا تھا، اور بعد کے علماء نے ان کے قول کو کس حد تک محدود کیا ہے۔ 3. دورِ حاضر کے تقاضے: یہ تحقیق صرف نصوص کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عملی رہنمائی بھی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں فتاویٰ کے غلط استعمال، اسلام کے بارے میں پھیلنے والی بدگمانیوں اور ہندوست...

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا حنفی دارالافتا۶ - 01/03/2025  کیا فرماتے ہے مفیان کرام کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کا اثر ہوا تھا اور ہوا تھا تو اس پر صحیح حدیث موجود ہے اور دوسرا سوال یہ ہے کہ صحیح بخاری کی اس حدیث کا کیا جواب ہے جس میں ہے کہ وحی رک گئی تو آپ نے اپنے آپ کو پہاڈ سے گرانا چاہا جواب عنائت فرمائے سائل محمد علی کچھ گجرات  الجواب و باللہ توفیق کسی بھی مسئلے میں قائدہ یہ ہے کہ اس کو قرآن کے سامنے پیش کریں گے اگر قرآن کے خلاف ہے تو اگرچہ حدیث صحیح ہو اس کو قبول نہیں کیا جائے گا آپ پر جادو کا اثر ہوا تھا اس پر جمہور مفسرین نے یہ ہی لکھا ہے تبیان القرآن جلد۔ اول صفہ ۱۰۴۸میں ہے  امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606  ھ لکھتے ہیں :- جمہور مفسرین نے یہ کہا ہے کہ لبیدبن اعصم یہودی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر گایرہ گرہوں میں جادو کیا تھا اور اس دھاگے کو ذروان نامی کنوئیں کی تہہ میں ایک پتھر کے نیچے دبا دیا تھا، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار ہوگئے اور تین دن آپ پر سخت گزرے، پھر اس وجہ سے معوذتین نازل ہوئیں اور حضرت جبریل نے آ کر آپ کو ...