نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

حرمین شریفین میں گوشت کا حکم

السلام عليكم ورحمۃ اللهِ 

ایک سوال  ہے جس کا علم ہونا بہت ضروری ہے 

سوال یہ ہے  کہ  آج ہم اکثر عوام و خواص  حرمین شریفین کی زیارت کےلئے  جاتے ہیں حج و عمرہ کے موقعہ پر   تو وہاں کھانے میں نون ویج. چکن مٹن  ٹور والوں کی طرف سے آتا ہے جس کے ذبیحہ کے بارے میں معلوم نہیں ہوتا  کہ کس کے ہاتھ کا ذبیحہ ہوگا  یا مشین کا ذبیحہ ہوگا  اور سب حاجی اور عمرہ کرنے والے کھاتے ہیں  اسکے بارے میں علماء کرام کیا فرماتے ہیں 

اس مسئلہ کا جواب ضرور دیں تاکہ ہم سب کی اصلاح ہو

محمد انیس رضوی
 *الجواب وباللہ توفیق* 

شریعتِ مطہرہ نے حلال جانور کے حلال ہونے کے لیے شرعی طریقے سے ذبح کو شرط قرار دیا ہے۔ اگر یقین یا غالب گمان ہو کہ جانور غیر شرعی طریقے سے ذبح کیا گیا ہے، یا مردار ہے، تو اس کا کھانا جائز نہیں۔

البتہ اگر کسی اسلامی ملک میں مسلمانوں کی طرف سے گوشت فراہم کیا جا رہا ہو اور اس کے غیر شرعی ذبیحہ ہونے کی کوئی معتبر دلیل موجود نہ ہو، تو محض شک اور وہم کی بنیاد پر اسے حرام قرار دینا درست نہیں۔ فقہاء نے فرمایا ہے:

«الأصل في أفعال المسلمين الصحة

"مسلمانوں کے افعال کو صحت پر محمول کیا جائے گا۔"»

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے عرض کیا:

«"یا رسول اللہ! کچھ لوگ ہمارے پاس گوشت لاتے ہیں، ہمیں معلوم نہیں کہ انہوں نے ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لیا تھا یا نہیں؟"»

آپ ﷺ نے فرمایا:

«"تم اللہ کا نام لے کر کھاؤ۔"»

(صحیح بخاری)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صرف شک کی بنا پر کسی ذبیحہ کو ناجائز نہیں کہا جائے گا۔

لہٰذا حرمین شریفین میں اگر ٹور والوں، ہوٹلوں یا کیٹرنگ کی طرف سے گوشت فراہم کیا جائے اور اس کے غیر شرعی ذبیحہ ہونے کا کوئی معتبر ثبوت نہ ہو، تو اس کا کھانا جائز ہے۔ البتہ اگر کسی مخصوص کمپنی یا مقام کے بارے میں معتبر ذرائع سے معلوم ہو جائے کہ وہاں غیر شرعی ذبیحہ استعمال ہوتا ہے، تو اس سے بچنا واجب ہوگا۔

تنبیہ:
اگرچہ محض شک کی بنیاد پر کسی ذبیحہ کو حرام قرار نہیں دیا جا سکتا، لیکن احتیاط اور تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ انسان حتیٰ الامکان ایسی چیز سے بچے جس کے بارے میں اس کا دل مطمئن نہ ہو۔

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:

«"کوئی شخص اس وقت تک تقویٰ کی حقیقت کو نہیں پا سکتا جب تک وہ اس چیز کو بھی نہ چھوڑ دے جو اس کے سینے میں کھٹکتی ہو۔"»

نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«"کوئی بندہ اس وقت تک متقین کے درجے کو نہیں پا سکتا جب تک وہ بعض ایسی چیزوں کو بھی نہ چھوڑ دے جن میں کوئی حرج نہیں، اس خوف سے کہ کہیں وہ اسے کسی حرج والی چیز تک نہ پہنچا دیں۔"»

(نزهۃ الباری شرح صحیح البخاری، جلد 4، صفحہ 587)

لہٰذا اگر کسی شخص کو کسی ذبیحہ کے بارے میں اطمینان نہ ہو تو اس کے لیے احتیاطاً اس سے اجتناب کرنا اور مچھلی، سبزی یا ایسی غذا اختیار کرنا جس کے حلال ہونے میں کوئی شبہ نہ ہو، زیادہ بہتر اور تقویٰ کے قریب ہے۔ تاہم محض شک کی بنیاد پر کسی چیز کو حرام کہنا یا دوسروں کے لیے اسے ناجائز قرار دینا درست نہیں، جب تک اس کے غیر شرعی ہونے پر معتبر شرعی دلیل موجود نہ ہو۔

واللہ تعالیٰ أعلم بالصواب
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری نوری قادری حنفی دارالافتاء گلزار طیبہ تحقیق سینٹر

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ  سوال کیا فرماتے ہیں مفتیان اعظم مسلہ ذیل میں ہندستان کے کفار سے سود لینا کیسا اور ہندوستان کی بینکوں سے ملنے والا سود کا کیا حکم ہے اور کیا ہندوستان کے کفار حربی ہے ان سوالات کا جواب عنایت فرمائیں سایل محمد علی سانوا باڑمیر راجستھان  وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ الجواب وباللہ توفیق  تحقیق یہ ہے کہ ہندوستان کے کفار سے بھی سودی معاملات جایز نہیں اور ہندوستان کی بینکوں سے ملنے والا سود بھی حرام ہے اس رقم کو بغیر نیت ثواب کے  کسی غریب کو دے دیں اب آے اس مسلے پر تفصیلی گفتگو کرتے ہیں  دارالحرب کے سود میں جمہور فقہا کا نظریہ علامہ ابن قدامہ حنمبلی فرماتےہے دارالحرب میں سود اسی طرح حرام ہے جس طرح دارال اسلام میں سود حرام ہے امام احمد امام مالک امام اوزاعی امام ابو یسف امام شافعی اور اسحاق کا بھی یہی مزہب ہے امام ابو حنیفہ نے کہا کہ مسلمان اور حربی کے درمیان دارالحرب میں ربا جاری نہیں ہوگا اور ان سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ دو شخص دارالحرب میں مسلمان ہو گئے توان کے درمیان ربا (سود) نہیں ہوگا اور ان کے اموال مباح ہیں علامہ غلام رسول س...

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا حنفی دارالافتا۶ - 01/03/2025  کیا فرماتے ہے مفیان کرام کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کا اثر ہوا تھا اور ہوا تھا تو اس پر صحیح حدیث موجود ہے اور دوسرا سوال یہ ہے کہ صحیح بخاری کی اس حدیث کا کیا جواب ہے جس میں ہے کہ وحی رک گئی تو آپ نے اپنے آپ کو پہاڈ سے گرانا چاہا جواب عنائت فرمائے سائل محمد علی کچھ گجرات  الجواب و باللہ توفیق کسی بھی مسئلے میں قائدہ یہ ہے کہ اس کو قرآن کے سامنے پیش کریں گے اگر قرآن کے خلاف ہے تو اگرچہ حدیث صحیح ہو اس کو قبول نہیں کیا جائے گا آپ پر جادو کا اثر ہوا تھا اس پر جمہور مفسرین نے یہ ہی لکھا ہے تبیان القرآن جلد۔ اول صفہ ۱۰۴۸میں ہے  امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606  ھ لکھتے ہیں :- جمہور مفسرین نے یہ کہا ہے کہ لبیدبن اعصم یہودی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر گایرہ گرہوں میں جادو کیا تھا اور اس دھاگے کو ذروان نامی کنوئیں کی تہہ میں ایک پتھر کے نیچے دبا دیا تھا، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار ہوگئے اور تین دن آپ پر سخت گزرے، پھر اس وجہ سے معوذتین نازل ہوئیں اور حضرت جبریل نے آ کر آپ کو ...