السلام علیکم ورحمتہ اللہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اِس مسئلہ
میں کہ زید نے زمین خریدی اب اس میں گھر بنانے کے لئے اُس کے پاس پیسے نہیں ہیں تو اب زید زمین پر بینک سے لون لے رہا ہے کیا یہ لون لینا جائز ہے ؟
اور کیا سونا رکھ کے بینک سے لون لے سکتے ہیں اِس بارے میں شرعی رہنمائی فرمادیں؟
سائل محمد ساجد
راجستھان
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفیق:
صورتِ مسئولہ میں اگر بینک سے لیا جانے والا لون سودی (Interest-based) ہو، جیسا کہ عام طور پر بینکوں کا قرض ہوتا ہے، تو زمین پر گھر بنانے کے لیے ایسا لون لینا شرعاً ناجائز و حرام ہے، کیونکہ قرآنِ کریم نے سود کو قطعی طور پر حرام قرار دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
«﴿وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾
"اللہ نے تجارت کو حلال کیا اور سود کو حرام فرمایا۔"
(سورۃ البقرۃ: 275)»
مزید ارشاد فرمایا:
«﴿فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ﴾
"اگر تم سود کو نہیں چھوڑو گے تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کا اعلان سن لو۔"
(سورۃ البقرۃ: 279)»
لہٰذا صرف زمین پر گھر بنانے یا تعمیر مکمل کرنے کے لیے سودی قرض لینا جائز نہیں۔
اسی طرح اگر سونا بینک میں رہن (گروی) رکھ کر قرض لیا جائے، اور اس قرض پر سود یا کسی قسم کی اضافی رقم دینا لازم ہو، تو یہ بھی ناجائز و حرام ہے، کیونکہ رہن رکھنے سے سودی قرض کا حکم تبدیل نہیں ہوتا۔
البتہ ایک اہم وضاحت:
اگر کسی شخص کے پاس رہنے کے لیے واقعی مناسب مکان نہ ہو، وہ خود اور اس کے اہل و عیال شدید تنگی اور مشقت میں زندگی گزار رہے ہوں، اور ہر ممکن کوشش کے باوجود اسے قرضِ حسنہ، رشتہ داروں، دوستوں یا کسی اسلامی مالیاتی ادارے سے جائز ذریعہ نہ ملے، جبکہ رہائش کی کوئی معقول متبادل صورت بھی موجود نہ ہو، تو ایسی حقیقی اور شدید مجبوری کی حالت میں بعض فقہائے کرام نے بقدرِ ضرورت گنجائش کا ذکر فرمایا ہے۔
تاہم یہ گنجائش عام اجازت نہیں، بلکہ صرف حقیقی اضطرار کے لیے ہے۔ اس لیے جتنی ضرورت ہو صرف اتنا ہی قرض لیا جائے، سودی معاملہ کو حتیٰ الامکان کم رکھا جائے، قرض جلد از جلد ادا کرنے کی کوشش کی جائے، اور اللہ تعالیٰ سے توبہ و استغفار بھی کرتا رہے۔
لہٰذا مسلمانوں کو چاہیے کہ حتیٰ المقدور سودی قرض سے بچیں، جائز ذرائع اختیار کریں، قرضِ حسنہ، باہمی تعاون اور شرعی مالیاتی متبادل تلاش کریں، کیونکہ سود میں وقتی سہولت نظر آتی ہے مگر اس میں دنیا و آخرت کا نقصان پوشیدہ ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مراجع:
- القرآن الکریم، سورۃ البقرۃ: 275، 279
- رد المحتار، کتاب البیوع، باب الربا
- فتاویٰ ہندیہ، کتاب البیوع، باب الربا
- بہارِ شریعت، حصہ 11، بیانِ سود
- واللہ اعلم بالصواب کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری نوری قادری حنفی
خادم دارالافتاء گلزار طیبہ تحقیق سینٹر
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com