دارالافتاء گلزار طیبہ تحقیق سینٹر
سوال:
کسی مسلمان کو، خصوصاً کسی عالمِ دین کو "حرامی" کہنا شرعاً کیسا ہے؟
الجواب وباللہ التوفیق
دارالافتاء گلزار طیبہ تحقیق سینٹر کا فتویٰ یہ ہے کہ کسی مسلمان کو "حرامی" کہنا سخت حرام، ناجائز، فحش گوئی اور سنگین گناہ ہے۔ یہ محض گالی نہیں بلکہ کسی کے نسب پر حملہ اور اس کی عزت و آبرو کو پامال کرنا ہے۔ اور اگر یہ گستاخی کسی عالمِ دین کے ساتھ کی جائے تو اس کا گناہ مزید بڑھ جاتا ہے، کیونکہ علماء کرام انبیاء علیہم السلام کے وارث ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ»
"مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے لڑنا (کفر کے عمل سے مشابہ) ہے۔"
(صحیح بخاری، حدیث: 48؛ صحیح مسلم، حدیث: 64)
اور فرمایا:
«لَيْسَ الْمُؤْمِنُ بِالطَّعَّانِ، وَلَا اللَّعَّانِ، وَلَا الْفَاحِشِ، وَلَا الْبَذِيءِ»
"مومن طعنہ دینے والا، لعنت کرنے والا، فحش گو اور بدزبان نہیں ہوتا۔"
(جامع ترمذی، حدیث: 1977)
لہٰذا جو شخص کسی عالمِ دین کو "حرامی" کہتا ہے، وہ اپنی زبان سے اپنے اخلاق، اپنی تربیت اور اپنے کردار کا ثبوت دے رہا ہے، نہ کہ عالم کی کوئی حیثیت کم کر رہا ہے۔
یاد رکھو!
اگر تمہارے پاس دلیل ہے تو دلیل سے بات کرو، اور اگر صرف گالی ہے تو سمجھ لو کہ تمہارے پاس دلیل نہیں۔
حق کا مقابلہ گالی سے نہیں، قرآن، حدیث اور معتبر دلائل سے کیا جاتا ہے۔
ایسے شخص پر لازم ہے کہ فوراً اللہ تعالیٰ سے سچی توبہ کرے، جس مسلمان یا عالمِ دین کی توہین کی ہے اس سے معافی مانگے، ورنہ قیامت کے دن اس کی پکڑ بہت سخت ہوگی۔
واللہ تعالیٰ أعلم بالصواب
مفتی ابو احمد ایم جے اکبری نوری قادری حنفی
دارالافتاء گلزار طیبہ تحقیق سینٹر
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com