کیا چلتی ریل گاڑی میں یا بس میں جب نماز کے وقت نہ رکے تو نماز پڑھ سکتے ہیں سایل محمد علی جمیلانی سانوا باڑمیر راجستھان
الجواب وباللہ توفیق صورت مسئولہ ایسی صورت میں چلتی گاڑی میں نماز پڑھنا جائز ہے قال اللہ تعالیٰ
وَ لِلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُۗ-فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ(115)
ترجمۂ کنز الایمان
اور پورب پچھم سب اللہ ہی کا ہے تو تم جدھر منہ کرو ادھر وجہ اللہ (خدا کی رحمت تمہاری طرف متوجہ) ہے بیشک اللہ وسعت والا علم والا ہے
چلتی ہوئی ٹرین میں فرض نماز پڑھنے کا جواز :-
اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ سفر میں سواری پر نفل پڑھنا جائز ہیں خواہ سواری کا منہ کسی طرف ہو ‘ اور فرض نماز سواری پر بلا عذر پڑھنا جائز نہیں ہے کیونکہ قبلہ کی طرف منہ کرنا فرض ہے اور بلاعذر فرض ساقط نہیں ہوتا ‘ اور اگر عذر ہو تو پھر جائز ہے ‘ اور اگر راستہ میں کیچڑ ہو اور سوار سے نیچے اتر کر نماز پڑھنے سے کپڑے کیچڑ میں متلوث ہوں تو سواری پر فرض نماز پڑھنا جائز ہے۔ -
امام ترمذی روایت کرتے ہیں : -
یعلی بن مرہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ (رض) سفر میں تھے کہ نماز کا وقت آگیا ‘ آسمان سے بارش ہو رہی تھی اور نیچے زمین پر کیچڑ تھی ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سواری پر اذان دی اور اقامت کہی ‘ پھر آپ اپنی سواری پر آگے بڑھ گئے اور صحابہ (رض) آپ کے پیچھے سواریوں پر تھے ‘ آپ نے سواری پر انہیں اشارہ سے نماز پڑھائی ‘ آپ سجدہ میں رکوع سے زیادہ جھکتے تھے ‘ حضرت انس بن مالک (رض) سے بھی مروی ہے کہ انہوں نے بھی کیچڑ کی وجہ سے سواری پر نماز پڑھی۔ (جامع ترمذی ص ‘ ٨٦ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی) -
علامہ قاضی خاں اوزجندی لکھتے ہیں : -
بغیر عذر کے سواری پر نماز پڑھنا جائز نہیں ہے ‘ اور اعذاریہ ہیں : چوپایہ (سواری) سے اترنے میں اسے اپنی جان یا چوپایہ کی جان کا درندہ سے یا چور سے خطرہ ہو یا زمین پر کیچڑ ہو اور خشک جگہ نہ پائے یا چوپایہ سرکش ہو ‘ اس سے اترنے کے بعد بغیر مددگار کے اس پر سوار نہ ہوسکتا ہو ‘ اور مددگار میسر نہ ہو ‘ ان احوال میں چوپایہ پر نماز جائز ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالی فرماتا ہے : (ترجمہ) اگر تمہیں خوف ہو تو پیادہ یا سوار ہو کر نماز پڑھو۔ (البقرہ : ٢٣٩) اور سواری سے اترنے پر قادر ہونے کے بعد اس پر نماز کا دہرانا لازم نہیں ہے جیسا کہ مریض سواری پر اشاروں کے ساتھ نماز پڑھتا ہے خواہ چوپایہ اس وقت چل رہا ہو۔ (فتاوی قاضی خاں علی ھاہش الہندیہ ج ١ ص ١٧٠‘ مطبوعہ مطبع بولاق ‘ مصر ‘ البطعۃ الثانیۃ ‘ ١٣١٠ ھ) -
” فتاوی عالمگیری “ میں کچھ مزید عذر بیان کیے گئے ہیں : -
بغیر عذر کے چوپایہ پر فرض نماز جائز نہیں ہے اور اعذار یہ ہیں : چوپایہ سے اترنے میں اس کو اپنی جان یا اپنے کپڑوں یا سواری کی جان کا چور ‘ درندہ یا دشمن سے خطرہ ہو یا چوپایہ سرکش ہو اور اترنے کے بعد بغیر مددگار کے اس پر سوار نہ ہوسکتا ہو ‘ یا بوڑھا ہو اور خود سے سوار نہ ہوسکتا ہو اور سوار کرانے والا نہ پائے یا زمین پر کیچڑ ہو اور خشک جگہ نہ ہو “ ” محیط “ میں اسی طرح ہے اور اترنے پر قادر ہونے کے بعد اس پر اعادہ لازم نہیں ہے ‘ اسی طرح ” سراج وہاج “ میں ہے۔ (عالمگیری ج ١ ص ١٤٣‘ مطبوعہ مطبع کبری بولاق مصر ‘ الطبعۃ الثانیۃ ‘ ١٣١٠ ھ) -
قاضی خان اور عالمگیری کے علاوہ یہ اعذار -
علامہ کا سانی۔ ١ (ملک العلماء علاؤالدین بن مسعود کا سانی متوفی ٥٨٧ ھ ’ بدائع الصنائع ج ١ ص ١٠۔ ٩ مطبوعہ ایچ۔ ایم سعید ‘ کراچی ‘ ١٤٠٠ ھ)-
علامہ ابن ہمام۔ ٢ (علامہ کمال الدین ابن ہمام متوفی ٨٦١ ھ فتح القدیر ج ١ ص ٤٠٣‘ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ ‘ سکھر) -
علامہ بابرتی۔ ٣ (علامہ محمد بن محمود بابرتی متوفی ٧٨٦ ھ عنایہ علی ہامش فتح القدیر ج ١ ص ٤٠٣‘ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ ‘ سکھر) -
علامہ خوارزمی۔ ٤ (علامہ جلال الدین خوارزمی کفایہ مع فتح القدیر ج ١ ص ٤٠٣‘ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ ‘ سکھر) -
علامہ حلبی۔ ٥ (علامہ ابراہیم حلبی متوفی ٧٧٦ ھ غنیۃ المستملی ص ٢٧٠۔ ٢٦٩ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ‘ ١٣٣٣ ھ) -
علامہ شامی۔ ١ (علامہ ابن عابدین شامی متوفی ١٢٥٢ ھ ‘ ردالمختار ج ١ ص ٦٥٥‘ مطبوعہ مطبع عثمانیہ استنبول ‘ ١٣٢٧ ھ )-
علامہ ابن نجیم۔ ٢ (علامہ زین الدین ابن نجیم متوفی ٩٧٠ ھ البحرالرائق ج ٢ ص ٦٤‘ مطبوعہ مکتبہ ماجدیہ ‘ کوئٹہ) -
علامہ حصکفی۔ ٣ (علامہ علاؤ الدین حصکفی متوفی ١٠٨٨ ھ ردمختار علی ہامش الرد ج ١ ص ٦٥٦‘ مطبوعہ مطبعہ عثمانیہ استنبول ‘ ١٣٢٧ ھ) -
علامہ شرنبلالی۔ ٤ (علامہ حسن بن عمار شرنبلالی متوفی ١٠٦٩ ھ ‘ مراتی الفلاح علی ہامش الطحطاوی ص ٢٤٤‘ مطبوعہ مطبع مصطفی البابی ‘ مصر الطبعۃ الثانیۃ) -
علامہ طحطاوی۔ ٥ (علامہ احمد بن محمد الطحطاوی متوفی ١٢٣١ ھ ‘ حاشیۃ الطحطاوی ص ٢٤٤‘ مطبوعہ مطبع مصطفے البابی مصر ‘ الثانیۃ ‘ ١٣٥٦ ھ) -
علامہ شبلی۔ ٦ (شیخ شبلی حاشیہ الشبلی علی تبیین الحقائق ج ١ ص ١٧٧‘ مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ‘ ملتان ‘)-
علامہ ابن بزار کردری۔ ٧ (علامہ محمد ابن بزاز کردری متوفی ٨٢٧ ھ ‘ فتاوی بزازیہ علی ہامش الہندیہ ج ٤ ص ٧٠‘ مطبوعہ مطبع کبری بولاق ‘ مصر الطبعۃ الثانیۃ) -
اور مولانا امجد علی۔ ٨ (مولانا امجد علی متوفی ١٣٢٧ ھ ‘ بہار شریعت ج ٤ ص ١٩‘ مطبوعہ شیخ غلام علی اینڈ سنز ‘ کراچی) نے بھی بیان کئے ہیں -
جب کوئی تیز رفتار ایکسپریس ٹرین نماز کے پورے وقت میں کسی سٹیشن پر نہ رکے تو چلتی ٹرین میں فرض نماز پڑھنا جائز ہے بلکہ فرض ہے کیونکہ قرآن مجید (البقرہ : ٢٣٩) سے یہ واضح ہوگیا کہ اگر جان جانے کا خطرہ ہو تو سواری پر نماز پڑھی جاسکتی ہے اور چلتی ٹرین سے نیچے اتر کر نماز پڑھنے میں یقینا جان کا خطرہ ہے ‘ ہمارے فقہاء نے اس سے کم تر خطرہ میں سواری پر فرض نماز پڑھنے کو جائز لکھا ہے اور یہ بیان کیا ہے کہ اس میں نماز کا اعادہ نہیں ہے ‘ جب کیچڑ میں لتھڑنے کے اندیشہ سے اور قافلہ سے کٹ جانے کے خدشہ سے چلتی سواری پر نماز جائز ہے تو جان کے خطرہ کی وجہ سے تیز رفتار دوڑتی ہوئی ٹرین میں فرض نماز پڑھنا بہ طریق اولی جائز ہوگا۔ واللہ اعلم بالصواب کتبہ ابو احمد محمد رضا نوری قادری حنفی دارالافتاء گلزار طیبہ تحقیق سینٹر
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com