🌹 قسطوں اور EMI کے نام پر سود سے بچیں! 🌹
آج کل بہت سے لوگ موبائل، فریج، ٹی وی، بائیک، کار، گھر اور کاروبار کے لیے EMI اور Loan لے رہے ہیں، اور بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ ہر ماہ تھوڑی تھوڑی رقم ادا کرنی ہے، اس لیے کوئی گناہ نہیں۔
⚠️ یہ سوچ درست نہیں!
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر EMI حرام نہیں اور ہر قسط سود نہیں۔ اصل حکم معاہدے کی نوعیت پر منحصر ہے۔
📌 اگر کوئی سامان قسطوں پر ایک مقررہ قیمت میں خریدا جائے اور خریداری کے وقت کل قیمت اور قسطوں کی مدت واضح ہو، تو شرعی شرائط کے ساتھ ایسی خرید و فروخت جائز ہو سکتی ہے۔ قسطوں پرکسی چیز کی خرید و فرخت کرنا تجارت کی ایک جائز قسم ہے، جو عام طور پر نقد سے قدرے زائد قیمت پر بائع (دوکاندار) اور مشتری (خریدار )کی باہمی رضامندی سے طے پاتا ہے، البتہ اس کے صحیح ہونے کے لیےچند شرائط کی پابندی کرنا ضروری ہے، اگر ان شرائط کی رعایت نہ کی جائے تو سود لازم آئے گا جو کہ حرام ہے۔
شرائط مندرجہ ذیل ہیں:
1۔عقد کے وقت ہی کوئی ایک قیمت متعین کرلی جائے۔
2۔ ادھار کی مدت بھی متعین کرلی جائے۔
3۔بیع خلاف جنس کی ہو۔
4۔ قسط میں تاخیر ہونے کی وجہ سے مقرر ہ قیمت میں اضافہ نہ کیا جائے ۔
5۔تاخیر کی وجہ سے جرمانہ وصول کرنے کی شرط عائد نہ کی جائے۔
6۔ ادائیگی سے عاجز ہونے کی وجہ سے سودا منسوخ کرنے پر ادا شدہ رقم ضبط نہ کی جائے۔
7۔ اور نہ ہی مبیع ضبط کی جائے وغیرہ وغیرہ۔
تو شرعاً ایسا معاملہ کرنا عام بیع کی طرح جائز ہو گا کہ جس میں بائع اور مشتری کو اختیار ہوتا ہے کہ باہمی رضامندی سے جتنے میں بھی سودا طے کر لیں ۔
❌ لیکن اگر بینک یا ادارہ قرض دے اور وقت کے بدلے اصل قرض سے زائد رقم واپس لینا شرط کرے، مثلاً ₹5 لاکھ قرض دے کر ₹7 لاکھ واپس لے، تو یہ سودی قرض ہے اور شرعاً حرام ہے۔
📖 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَأَحَلَّ اللّٰهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا
"اللہ نے تجارت کو حلال فرمایا اور سود کو حرام فرمایا۔"
📚 (سورۃ البقرۃ: 275)
اور فرمایا:
فَإِنْ لَّمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُولِهٖ
"اگر تم ایسا نہ کرو تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کے لیے تیار ہوجاؤ۔"
📚 (سورۃ البقرۃ: 279)
🚨 خاص توجہ!
بائیک Loan، Car Loan، Home Loan، Business Loan یا کسی بھی دوسرے قرض کے بارے میں صرف یہ نہ دیکھیں کہ:
"EMI کتنی ہے؟"
بلکہ یہ دیکھیں:
"معاہدہ کس بنیاد پر ہے؟"
اگر قرض کے بدلے مشروط اضافہ ہے تو یہ سود ہے۔
اور فی زمانہ غریب مسلمان کو ضرورت کی چیزیں لینے کے لیے بھی قسطوں کا سہارا لینا پڑتا ہے اس کی جواز کی صورت یہ ہے مثلاً آپ کم موٹر سائیکل کی ضرورت ہے اب ایک ساتھ اس کی رقم ادا نہیں کر سکتے تو پہلے اس کی قیمت طے کر دے کہ مثلاً نقد میں ایک لاکھ کی پڑے گی اور اگر رقم قسطوں میں ادا کریں گے تو ایک لاکھ بیس ہزار ہوگے اب جب یہ قیمت طے ہو گیی اس طرح جایز ہے ایسا ہی بہار شریعت میں ہے
فتاویٰ تربیت یافتہ اؤل صفحہ 262
🌿 مومن کی شان یہ ہے کہ وہ اپنی ضرورت پوری کرنے سے پہلے اپنے رب کی ناراضی سے بچنے کی فکر کرے۔
ضرورت ہو تو حلال راستہ اختیار کریں، کم پر قناعت کریں، مگر سود سے اپنی زندگی، کاروبار اور گھر کو آلودہ نہ کریں۔
✦ حق بات — بے باک انداز ✦
دارالافتاء گلزار طیبہ تحقیق سینٹر
خادم: ابو احمد محمد رضا قادری نوری حنفی
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com