السلام علیکم حضرت صاحب
*میرے ایک دوست نے ۴ہزار روپیہ مانگے اور کہا ایک مہینے بعد ۵ہزار دے دوں گا- کیا اس طرح کرنا صحیح ہے؟ اور اگر اس طرح کرنا صحیح نہیں ہے تو اس سے بچنے کی کیا صورتیں ہو سکتی ہیں؟* ابراھیم خان، راجستھان انڈیا
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الجواب وبالله التوفيق
صورتِ مسئولہ میں اگر آپ کے دوست نے ₹4,000 قرض مانگتے ہوئے پہلے ہی یہ شرط رکھی کہ ایک ماہ بعد ₹5,000 واپس کرے گا تو یہ معاملہ ناجائز اور سود (ربا) ہے؛ کیونکہ ₹4,000 کے قرض کے بدلے مدت گزرنے پر مشروط طور پر ₹1,000 زائد لینا قرض دینے والے کے لیے مقررہ نفع ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ
یعنی: تمہارے لیے تمہاری اصل رقم ہی ہے۔
حضور ﷺ نے صحابہ کرام کو خطبہ دیا اور سود اور اس کی برائیاں بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک ایسا درہم جسے آدمی بطور سود لیتا ہے اللہ کے ہاں 33 مرتبہ زنا کرنے سے زیادہ برا ہے اور سب سے بڑا سود مسلمان کے مال میں سے کچھ لینا ہے۔(مکاشفۃ القلوب، ص 481)
4۔سود میں 70 گناہ ہیں سب سے ادنیٰ گناہ یہ ہے کہ جیسے آدمی اپنی ماں سے نکاح کر لے۔(مکاشفۃ القلوب،ص 481)
لہٰذا ₹4,000 قرض دے کر ₹5,000 واپس لینا جائز نہیں۔
البتہ اگر آپ ₹4,000 بطور قرض دیں اور واپسی کے وقت وہ اپنی خوشی سے، بغیر کسی پیشگی شرط یا وعدے کے کچھ زیادہ دے دے، تو اس کی گنجائش ہے۔ نبی کریم ﷺ نے قرض ادا کرتے وقت بہتر چیز واپس فرمائی اور اچھے طریقے سے قرض ادا کرنے کی فضیلت بیان فرمائی ہے۔
جائز صورتیں
1. قرضِ حسنہ: ₹4,000 دیں اور صرف ₹4,000 واپس لیں۔
2. اگر دوست ₹5,000 دینا چاہتا ہے تو پہلے سے ₹5,000 کی شرط نہ ہو؛ قرض کی ادائیگی کے وقت اپنی خوشی سے اضافی رقم دے تو جائز ہے۔
3. اگر واقعی خرید و فروخت کا معاملہ ہو تو اسے حقیقی شرعی بیع کی شرائط کے ساتھ الگ معاملہ بنایا جاسکتا ہے، محض قرض کو بیع کا نام دے کر اضافی رقم لینا جائز نہیں۔
لہٰذا سوال میں مذکور طریقہ اختیار نہ کیا جائے، بلکہ دوست کی مدد کرنی ہو تو ₹4,000 قرضِ حسنہ دیا جائے اور ایک ماہ بعد صرف ₹4,000 واپس لیے جائیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
ابو احمد ایم جے اکبری نوری قادری حنفی
خادم دارالافتاء گلزار طیبہ
تحقیق سینٹر
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com