حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے متعلق مشہور واقعہ کی حقیقت
تمام محدثین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ مشہور واقعہ بالکل جھوٹ، من گھڑت اور موضوع ہے، اور اسے نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب کرنا درست نہیں۔
چنانچہ فتاویٰ شارح بخاری میں ہے:
’’آپ نے جو واقعہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے بارے میں لکھا ہے، اس کے قریب قریب بعض کتابوں میں درج ہے، لیکن تمام محدثین کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ روایت موضوع، من گھڑت اور بالکلیہ جھوٹ ہے۔‘‘
📚 (فتاویٰ شارح بخاری، جلد 2، صفحہ 38، مکتبہ برکات المدینہ)
لہٰذا حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی زبان میں لکنت ہونے اور اسی وجہ سے انہیں اذان سے روکنے، پھر ان کے اذان دینے پر صبح نہ ہونے وغیرہ کا جو واقعہ بعض واعظین اور قوالوں کی مجالس میں بیان کیا جاتا ہے، اس کی کوئی معتبر شرعی بنیاد نہیں۔
اسی طرح یہ کہنا بھی درست نہیں کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی زبان میں ایسی لکنت تھی کہ وہ ’’اشہد‘‘ کو درست ادا نہیں کر سکتے تھے۔ اس قسم کی باتیں بغیر تحقیق کے بیان کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:
ابو احمد محمد رضا نوری قادری حنفی
دارالافتاء گلزار طیبہ تحقیق سینٹر
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com