الجواب وباللہ توفیق
صورتِ مسئولہ میں پہلے آپ یہ سمجھیں کہ ہر مسلے کے جواب میں حدیث کا مطالبہ کرنا درست نہیں ہے ہر مسلے میں حدیث حدیث کی رٹ لگانا غیر مقلدین کی عادت ہے اور پھر ان کا عمل حدیث کے خلاف بھی ہوتا ہے دوسری چیز یہ ہے کہ ہر مسلے کا حل حدیث میں صاف ظاہر مل جاتا تو پھر آیمہ عربیہ کا کیا مطلب؟ اور یہ کہنا بھی درست نہیں ہے کہ درمختار عالمگیری کے حوالے سے مسلہ بیان کرے یہ کتب تو بہت بعد میں آیی ہے اس سے پہلے بھی مذہب حنفی کی بہت سی کتابیں ہیں کیا وہ سب غیر معتبر ہے؟ سوال کا طریقہ یہ ہونا چاہیے کہ جواب شریعت کی روشنی میں دے نہ کہ اپنی خواہش کی کتب کا مطالبہ کرے
مسلے کا حل اصول سے کیا جاتا ہے جیسا کہ حدیث میں ہے
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو نبی کریم ﷺ نے یمن کی طرف قاضی اور حاکم بنا کر بھیجا تھا۔ اس سلسلے میں مشہور روایت میں آپ ﷺ نے ان سے پوچھا:
«كَيْفَ تَقْضِي إِذَا عَرَضَ لَكَ قَضَاءٌ؟»
’’جب تمہارے سامنے کوئی مقدمہ پیش ہو تو کس طرح فیصلہ کرو گے؟‘‘
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:
«أَقْضِي بِكِتَابِ اللَّهِ»
’’میں اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروں گا۔‘‘
آپ ﷺ نے فرمایا:
’’اگر کتاب اللہ میں نہ پاؤ؟‘‘
عرض کیا:
«فَبِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ»
’’تو رسول اللہ ﷺ کی سنت کے مطابق فیصلہ کروں گا۔‘‘
آپ ﷺ نے فرمایا:
’’اگر رسول اللہ ﷺ کی سنت میں بھی نہ پاؤ؟‘‘
عرض کیا:
«أَجْتَهِدُ رَأْيِي وَلَا آلُو»
’’پھر میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا اور کوئی کوتاہی نہیں کروں گا۔‘‘
اس پر نبی کریم ﷺ نے ان کے سینے پر ہاتھ مار کر فرمایا:
«الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَفَّقَ رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ لِمَا يُرْضِي رَسُولَ اللَّهِ»
’’تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے رسولِ اللہ ﷺ کے قاصد کو اس بات کی توفیق دی جو اللہ کے رسول ﷺ کو پسند ہے۔‘‘
حوالہ: سنن ابی داؤد، کتاب الأقضیہ، باب اجتہاد الرأي في القضاء؛ جامع ترمذی، ابواب الأحکام۔
اب آے حدیث کو سمجھنے کی کوشش کریں اس حدیث میں ان لوگوں کی مزمت ہے جنھوں نے قبر کے گرد مسجد بنائی اس میں تصاویر آویزاں کہیں اور ان کی تعظیم اور عبادت کی! اور حدیث میں قبروں کو سجدہ کرنے کی ممانعت ہے اس لیے کہ صالحین کی قبروں کے جوار میں ان سے خیر برکت حاصل کرنے کے لیے مسجد نہیں بنانی چاہیے تو جواب یہ ہے کہ کعبہ سے بڑی دنیا میں کوئی مسجد ہے'اور اس کے جوار میں حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت حاجرہ کی قبریں ہیں الجامع اللطیف صفحہ ٨٩) میں ہے کہ حطیم کعبہ کے فضائل میں سے یہ ہے کہ اس میں حضرت اسماعیل اور ان کی والدہ کی قبریں ہیں!! اب کیا آج تک کسی مفتی نے حتیٰ کہ غیر مقلدین کے کسی مفتی نے یہ فتویٰ دیا ہے کہ کعبہ میں نماز مکروہ ہے؟ شرح صحیح مسلم میں ہے کہ غار پر مسجد بنانا قبروں پر عمارت بنانے کی دلیل ہے جیساکہ کشاف میں ہے اور یہ کہ اس عمارت میں نماز پڑھنا جائز ہے (شرح صحیح مسلم جلد دوم صفحہ 74) علامہ حجر عسقلانی اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں جو شخص کسی صالح کے جوار میں مسجد بناے اور اس کے قرب سے برکت حاصل کرنے کا ارادہ کرے نہ کہ اس کی تعظیم اور نماز میں اس کی طرف توجہ کا تو وہ اس وعید میں داخل نہیں ہے (فتح الباری)
شیخ انوار شاہ کشمیری اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں علامہ طیبی نے کہا کہ جو شخص کسی صالح کے قرب میں مسجد بنایے بایں طور کہ اس کی قبر مسجد سے خارج ہو اور وہ اس کے قرب سے برکت کا ارادہ کرے نہ کہ اس کی تعظیم اور اس کی طرف توجہ کا اس میں کوئی حرج نہیں اور اس میں نفع کی امید ہے (فیض الباری جلد 3 صفحہ 43) مرقات شرح مشکوٰۃ المصابیح میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پہچان لیا کہ وہ عنقریب اس عالم فانی سے کوچ کرنے والے ہیں اور آپ کو یہ ڈر محسوس ہوا کہ لوگ آپ کی تعظیم ( ایسی کہ عبادت) نہ کرے جس طرح کہ یہود ونصاریٰ نے کی تو اس پر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کے ساتھ تعریض کی تاکہ لوگ آب صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کے ساتھ ایسا معاملہ نہ کرے ان پر لعنت کا سبب ہے یا تو اس لیے کہ وہ انبیاء علیہم السلام کی قبروں کو سجدہ کرتے تھے ان کی تعظیم کرتے ہوئے اور یہ شرک جلی ہے ( یعنی ایسی تعظیم جو عبادت ہو) قاضی نے فرمایا کہ یہود ونصاریٰ اپنے انبیاء کی قبر سجدہ کرتے تھے اور اس کو قبلہ بناتے تھے اور نماز میں ان قبور کی طرف متوجہ ہوتے تھے پس تحقیق انہوں نے ان قبور کو بت بنا رکھا تھا اسی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر لعنت کی اور مسلمانوں کو اس سے روک دیا اور باقی وہ شخص جس نے کسی نیک آدمی کی قبر کے قریب مسجد بنائی یا اس کے مقبرے میں نماز پڑھی اور اس کی روح کے ویسلے سے مدد طلب کی تو اس میں کوئی حرج نہیں کیا تو نہیں دیکھتا کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قبر مسجد حرام میں حطیم کے پاس ہے اور یہ جگہ جہاں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قبر ہے یہ افضل جگہ میں سے ہے اور (دوسرے) قبرستان میں میں نماز پڑھنے کی جو ممانعت ہے وہ خاص ہے ان قبروں کے ساتھ کہ جن کو کھودا گیا ہے اس لیے کہ اس میں نجاست ہوتی ہے ( مرقات شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم صفحہ 609)
اور شرح السنہ میں لکھا ہے کہ مقبرہ میں نماز پڑھنے کے بارے میں علما کا اختلاف ہے پس علما کی ایک جماعت نے اس کو مکروہ کہا ہے اگرچہ مٹی و مکان پاک و طاہر ہوں اور بعض نے کہا جایز ہے کہ ممانعت مکان کی نجاست کی وجہ سے ہے اگر جگہ پاک ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے علامہ حجر عسقلانی نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح طریقے سے یہ منقول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقبرہ میں نماز پڑھنے سے روکا ہے اور علما نے اس نہی کے بارے میں اختلاف کیا ہے کہ یہ نہی تنزہی ہے یا تحریمی ہے امام احمد کا مذہب یہ ہے کہ نہی تحریمی ہے بلکہ نماز ہی منعقد نہیں ہوگی (مرقات شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم صفحہ 610) علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مقبرہ میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے اس لیے مقبرہ میں نماز مکروہ قرار دی جاے گی خواہ مقبرہ کی جگہ پاک ہو یا نہ ہو (شرح صحیح مسلم جلد دوم صفحہ 86)
خلاصۃ کلام پوری بحث کا حاصل یہ ہے کہ مقبرہ میں یا قبر کے پاس اگرچہ قبر دایں بایں ہو وہاں نماز پڑھنا مکروہ ہے اس سے بچنا چاہیے
واللہ اعلم بالصواب کتبہ ابو احمد محمد رضا نوری قادری حنفی دارالافتاء گلزار طیبہ تحقیق سینٹر
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com