قیامت کے مناظر کی AI ویڈیوز بنانے اور دیکھنے کا شرعی حکم
السؤال:
قیامت کے موضوع پر AI (مصنوعی ذہانت) کے ذریعے فرضی مناظر یا ویڈیوز بنانا، جبکہ بنانے والا خود جانتا ہو کہ یہ حقیقی قیامت کے مناظر نہیں بلکہ محض تخیلاتی منظرکشی ہے، اور ایسی ویڈیوز کو دیکھنا کیسا ہے؟
الجواب وبالله التوفيق
شریعتِ اسلامیہ میں قیامت، حشر و نشر، جنت و جہنم اور دیگر امورِ آخرت امورِ غیب میں سے ہیں۔ ان کی حقیقی کیفیت اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے اور رسولِ اکرم ﷺ نے وحی کے ذریعے جو کچھ بیان فرمایا ہے، مسلمان اسی پر ایمان رکھتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
﴿الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ﴾
“وہ لوگ جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں۔”
(سورۃ البقرۃ: 3)
لہٰذا غیبی معاملات کو انسانی تخیل اور فرضی منظرکشی کے ذریعے اپنی مرضی کی شکل میں پیش کرنا شرعی طور پر درست نہیں، کیونکہ اس سے لوگوں کے ذہنوں میں ایسے تصورات پیدا ہوسکتے ہیں جن کی کوئی شرعی بنیاد نہیں۔
اسی طرح قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے بلاعلم بات کہنے سے منع فرمایا:
﴿وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ﴾
“اور اس بات کے پیچھے نہ پڑو جس کا تمہیں علم نہیں۔”
(سورۃ الإسراء: 36)
قیامت کے مناظر کس طرح ہوں گے، ان کی حقیقی کیفیت کیا ہوگی، وہاں کون سی صورتیں اور کیفیات ظاہر ہوں گی—یہ سب امورِ غیب ہیں۔ لہٰذا ان کے بارے میں انسانی تصور کو ویڈیو کی شکل میں پیش کرنا اور اسے آخرت کے مناظر سے جوڑنا شرعی احتیاط کے خلاف ہے۔
مزید یہ کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ ... وَأَنْ تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ﴾
“فرماؤ: میرے رب نے بے حیائیوں کو حرام کیا ہے ... اور یہ کہ تم اللہ کے بارے میں وہ بات کہو جس کا تمہیں علم نہیں۔”
(سورۃ الأعراف: 33)
پس قیامت کے غیبی احوال کو ایسے فرضی مناظر کے ذریعے متعین کرنا جن کی کوئی وحی یا معتبر شرعی دلیل موجود نہیں، اللہ تعالیٰ کے بیان کردہ غیبی امور میں اپنی طرف سے اضافہ اور غیر معلوم بات کو دینی حقیقت کے قریب لے جانے کا سبب بن سکتا ہے۔
خلاصۂ حکم
قیامت اور آخرت کے غیبی احوال کی فرضی AI منظرکشی کرکے ویڈیوز بنانا اور انہیں لوگوں میں پھیلانا شرعاً ناجائز ہے، کیونکہ غیبی امور کے بارے میں اپنی طرف سے فرضی تصورات پیش کرنا درست نہیں۔
اسی طرح ایسی ویڈیوز کو دیکھنے سے بھی اجتناب کرنا چاہیے، کیونکہ یہ قیامت کے حقیقی احوال کے بارے میں غیر ثابت شدہ تصورات کو ذہن میں مضبوط کرتی ہیں۔
آخرت کی یاد اور خوفِ خدا پیدا کرنے کے لیے قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ میں بیان کردہ حقیقی احوال ہی کافی ہیں۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ قیامت کے بارے میں قرآن و سنت کی بیان کردہ تعلیمات پر اکتفا کریں۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ:
ابو احمد محمد رضا نوری قادری حنفی
دارالافتاء گلزار طیبہ تحقیق سینٹر
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com