نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

حرام اشیاء سے علاج

الجواب وباللہ توفیق پہلے ہم ممانعت کی احادیث پر کلام کرتے ہیں 
حرام چیزوں سے علاج کی ممانعت کے متعلق احادیث : -
بعض علماء مذکور ذیل احادیث کی بناء پر حرام دداؤں سے علاج کو ناجائز کہتے ہیں خواہ مریض مرجائے مگر حرام چیزوں سے علاج نہ کرے۔ -
امام ابو داؤدروایت کرتے ہیں : -
حضرت ام درداء (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالی نے بیماری اور دوا دونوں نازل کی ہیں اور ہر بیماری کے لیے دواء ہے سو تم دوا کرو اور حرام دوا نہ لو۔ (سنن ابوداؤد ج ٢ ص ١٨٥‘ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ) -
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خبیث دوا سے منع فرمایا ہے۔ (سنن ابوداؤد ج ٢ ص ١٨٥‘ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ) -
حضرت سوید بن طارق (رض) بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شراب کے متعلق پوچھا ‘ آپ نے اس سے منع فرمایا ‘ انہوں نے پھر سوال کیا ‘ آپ نے پھر منع فرمایا ‘ انہوں نے کہا : یا نبی اللہ ! یہ دوا ہے ‘ آپ نے فرمایا : نہیں ‘ بلکہ یہ بیماری ہے (سنن ابوداؤد ج ٢ ص ١٨٥‘ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ) -
امام بخاری روایت کرتے ہیں : -
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے نشہ آور چیزوں کے متعلق فرمایا : اللہ نے ان چیزوں میں تمہاری شفا نہیں رکھی جن کو تم پر حرام کیا ہے۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ‘ ٨٤٠ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)-
مفتی محمد شفیع دیوبندی نے ” صحیح بخاری “ کی اس حدیث کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد لکھا ہے۔ (معارف القرآن ج ١ ص ٤٢٦) حالانکہ ” صحیح بخاری “ میں یہ حضرت ابن مسعود (رض) کا قول ہے۔-
علامہ علی متقی نے بھی اس حدیث کا ذکر کیا ہے۔ (کنزالعمال ١٠ ص ٥٣‘ مطبوعہ موسسۃ الرسالۃ بیروت ‘ ١٤٠٥) -
امام طبرانی روایت کرتے ہیں : -
حضرت ام سلمہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ میری بیٹی بیمار ہوگئی ‘ میں نے اس کے لیے ایک کو زہ میں نبیذ بنایا ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے ‘ اس وقت نبیذ میں جوش آرہا تھا ‘ آپ نے پوچھا : یہ کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا : میری بیٹی بیمار تھی ‘ سو میں نے اس کے لیے یہ نبیذ بنایا ہے ‘ آپ نے فرمایا : اللہ تعالی نے اس چیز میں تمہاری شفا نہیں رکھی جس کو تم پر حرام کیا ہے۔ (المعجم الکبیر ج ٢٣ ص ‘ ٣٢٧ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت) -
اس حدیث کو امام ابویعلی ١۔ (امام احمد بن علی المثنی التمیمی الموصلی المتوفی ٣٠٧ ھ ‘ مسند ابویعلی ج ٦ ص ٢٧٠‘ مطبوعہ دارالمامون تراث بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ) -
امام ابن حبان۔ ٢ ‘(امام ابو حاتم محمد بن حبان بسی متوفی ٣٥٤ ھ ‘ موارد الظمآن ص ٣٣٩‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت) -
اور امام بیہقی۔ ٣ (امام ابوبکر احمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨ ھ ٗسنن کبری ج ١ ص ٥ مطبوعہ نشرالسنۃ ٗملتان) نے بھی روایت کیا ہے۔ -
اس حدیث کو علامہ علی متقی نے بھی بیان کیا ہے۔ (کنزالعمال ج ١٠ ص ٥٢ مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ ‘ بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ) -
حافظ الہیثمی نے لکھا ہے کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں : (مجمع الزوائد ج ٥ ص ‘ ٨٦ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ) -
علامہ سیوطی نے لکھا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔ (الجامع الصغیر ج ١ ص ٢٧٢‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت) -
فقہاء اسلام کے نزدیک احادیث مذکورہ کا محمل : -
امام بیہقی تحریر فرماتے ہیں :-
یہ دونوں حدیثیں (اللہ نے حرام میں شفا نہیں رکھی ‘ اور حرام دوا سے علاج نہ کرو) اگر صحیح ہوں تو ان کا محمل یہ ہے کہ نشہ آور دوا سے علاج کرنا ممنوع ہے یا بغیر ضرورت کے ہر حرام دوا سے علاج کرنا ممنوع ہے تاکہ ان حدیثوں میں اور عرنییین کی حدیث میں تطبیق رہے۔ (سنن دارمی ج ١٠ ص ‘ ٥ مطبوعہ نشرالسنۃ ‘ ملتان) -
علامہ نووی شافعی لکھتے ہیں : -
ہمارے اصحاب (شافعیہ) کہتے ہیں کہ نجس چیز کو اس وقت بہ طور دوا استعمال کرنا جائز ہے جب اس کے قائم مقام پاک چیز نہ مل سکے ‘ اگر پاک چیز مل جائے تو پھر نجس چیز بالاتفاق حرام ہے اور جس حدیث میں ہے : اللہ نے اس چیز میں تمہاری شفا نہیں رکھی جس کو تم پر حرام کیا ہے ‘ اس کا یہی محمل ہے کہ جب حرام دوا کے علاوہ حلال دوا بھی موجود ہو تو پھر حرام دوا کا استعمال حرام ہے ‘ اور جب حرام دوا کے علاوہ کوئی اور دوا موجود نہ ہو تو پھر وہ حرام نہیں ہے ‘ ہمارے اصحاب نے کہا : یہ اس وقت جائز ہے جب معالج طب کا عارف ہو اور اس کو علم ہو کہ اس دوا کا اور کوئی بدل نہیں ہے یا کوئی مسلمان نیک طبیب اس کی خبر دے ‘ اور علامہ بغوی وغیرہ نے تصریح کی ہے کہ صرف ایک طبیب کی خبر بھی کافی ہے۔ (شرح المہذب ج ٩ ص ٥١۔ ٥٠‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت) -
علامہ احمد قسطلانی شافعی لکھتے ہیں :-
امام ابو داؤد نے حضرت ام سلیم (بلکہ ام سلمہ) سے روایت کیا ہے کہ اللہ نے اس چیز میں تمہاری شفا نہیں رکھی جس کو تم پر حرام کیا ہے ‘ یہ حالت اختیار پر محمول ہے لیکن ضرورت کے وقت یہ حرام نہیں ہے ‘ جیسے ضرورت کے وقت مردار حرام نہیں ہے۔ (ارشاد الساری ج ١ ص ٢٩٤‘ مطبوعہ مطبع میمنہ ‘ مصر ‘ ١٣٠٦ ھ) -
علامہ ابن حجر عسقلانی نے بھی اس حدیث کا یہی محمل بیان کیا ہے کہ حالت اختیار میں حرام چیز میں شفا نہیں ہے اور ضرورت کے وقت حرام دوا سے علاج کرنا جائز ہے۔ (فتح الباری ج ١ ص ٢٣٨ مطبوعہ دار نشر الکتب الاسلامیہ ‘ لاہور ١٤٠١ ھ) -
علامہ قرطبی مالکی لکھتے ہیں : -
چونکہ ان دو حدیثوں میں حرام چیز کے ساتھ علاج کرنے سے منع فرمایا ہے ‘ اس لیے عرنییین کی حدیث (جس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اونٹینوں کے پیشاب کو بطوردوا استعمال کرایا اور عرنیین تندرست ہوگئے) (صحیح بخاری و صحیح مسلم) ضرورت کی صورت پر محمول ہے ‘ کو ن کہ زہر کے ساتھ علاج کرنا جائز ہے اور اس کا پینا جائز نہیں ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ٢ ص ٢٣١ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ) -
علامہ بدرالدین عینی حنفی لکھتے ہیں : -
اس حدیث کا جواب یہ ہے کہ اس سے وہ صورت مراد ہے جب انسان کو حلال اور حرام دونوں دواؤں کے استعمال کا اختیار ہو ‘ لیکن جب حرام دواء کے علاوہ اور کوئی دوانہ ہو تو پھر وہ دوا شرعا حرام نہیں رہے گی ‘ جیسے ضرورت کے وقت مردار حرام نہیں رہتا۔ (عمدۃ القاری ج ٣ ص ١٥٥‘ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ ‘ مصر ١٣٤٨ ھ) -
علامہ قاضی خاں حنفی لکھتے ہیں :-
اس حدیث سے مراد وہ اشیاء ہیں جن میں شفا نہیں ہے لیکن جب کسی چیز میں شفاہو تو پھر اس کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے کیا تم نہیں دیکھتے کہ ضرورت کے وقت پیاسے کے لیے شراب پینا جائز ہے۔ (فتاوی قاضی خاں ج ٣ ص ٤٠٤‘ مطبوعہ مطبع کبری امریہ بولاق مصر ‘ ١٣١٠ ھ) -
علامہ ابن بزاز کردری حنفی لکھتے ہیں : -
اس حدیث کا جواب یہ ہے کہ جب حرام دوا میں شفا کا علم ہو تو پھر اس کا استعمال حرام نہیں ہے جیسے پھنسے ہوئے لقمہ کو حلق سے اتارنے کے لیے (جب پانی نہ ہو تو) شراب کا گھونٹ پینا جائز ہے ‘ اسی طرح پیاسے کے لیے شراب پینا جائز ہے۔ (فتاوی بزازیہ علی ھامش الہندیہ ج ٦ ص ٣٦٥‘ مطبعہ مطبع کبری امیریہ ‘ بولاق) -
اللہ تعالیٰ ہمارے ان علما پر رحمت نازل فرمائے اس عبارت سے مسلہ صاف ظاہر ہو جاتا ہے 
جب حرام دوا میں شفا کا علم ہو تو پھر اس کا استعمال حرام نہیں ہے اور آج ساءنس نے بہت ترقی کی ہے ایسی ایسی مشین ہے جس کا صحیح معلومات حاصل ہو جاتی ہے کہ فلاں دوائیں اس بیمار کے لیے مفید ثابت ہوگی 
علامہ تمرتاشی نے ” شرح الجامع الصغیر “ میں تہذیب سے نقل کیا ہے کہ بیمار کے لیے مردار کھانا اور خون اور پیشاب کو پینا جائز ہے بہ شرطی کہ مسلمان طبیب یہ کہے کہ اس میں شفاء ہے اور اس کے قائم مقام جائز چیز نہ ملے۔ (غمزعیون البصائر ج ١ ص ٢٧٥‘ مطبوعہ دارالباز ‘ مکہ مکرمہ ‘ ١٤٠٥ ھ) -
علامہ شامی حنفی لکھتے ہیں : -
جس چیز میں شفا ہو اس کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے جس طرح ضرورت کے وقت پیاسے کے لیے شراب حلال ہے ‘ صاحب ” ہدایہ “ نے ” تجنیس “ میں اسی قول کو اختیار کیا ہے۔ (ردالمختار ج ١ ص “ ١٤٠ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)-
ضرورت کے وقت حرام چیزوں سے علاج کے متعلق احادیث اور فقہاء اسلام کی تشریحات : -
امام بخاری روایت کرتے ہیں : -
حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ عکل یا عرینہ سے کچھ لوگ آئے اور انہیں مدینہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ وہ اونٹنیوں کا دودھ اور پیشاب پئیں ‘ جب وہ تندرست ہوگئے تو انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چرواہوں کو قتل کردیا۔ -
علامہ بدرالدین عینی لکھتے ہیں : -
امام بخاری نے اس حدیث کو آٹھ سندوں سے روایت کیا ہے ‘ امام مسلم نے اس حدیث کو سات سندوں سے روایت کیا ہے ‘ امام ابوداؤد اور امام نسائی نے بھی اس حدیث کو متعدد سندوں سے روایت کیا ہے۔ (عمدۃ القاری ج ٣ ص ١٥١‘ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ ‘ مصر ١٣٤٨ ھ) -
نیز اس حدیث کو امام ترمذی نے کتاب الطہارۃ ‘ اطعمہ اور الطب میں روایت کیا ہے ‘ امام ابن ماجہ نے کتاب الحدود میں روایت کیا ہے ‘ امام احمد بن حنبل نے مسند احمد (ج ١ ص ١٩٢‘ ج ٣ ص ٣٧٠۔ ١٩٠۔ ٢٨٧۔ ٢٠٥۔ ١٩٨۔ ١٧٧۔ ١٦١۔ ١٠٧) میں روایت کیا ہے۔ -
علامہ بدرالدین عینی حنفی لکھتے ہیں : -
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ پیشاب پینا تو حرام ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ اس وقت حرام ہے جب دوسری دوا کا بھی اختیار ہو۔ (عمدۃ القاری ج ٣ ص ‘ ١٥٥ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ ‘ مصر ١٣٤٨ ھ) -
علامہ نووی شافعی نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے کہ خمر اور باقی نشہ آور مشروبات کے سوا ہر نجس چیز کے ساتھ علاج کرنا جائز ہے۔ (شرح مسلم ج ٢ ص ٥٧‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ) -
لیکن علامہ نووی نے ” شرح المہذب “ میں لکھا ہے کہ ضرورت کی بناء پر شراب سے بھی علاج جائز ہے۔ (شرح المہذب ج ٩ ص ٤١‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت) -
امام بخاری روایت کرتے ہیں :-
حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خارش کی وجہ سے حضرت عبدالرحمان بن عوف اور حضرت زبیر (رض) کو ریشم کی قمیص پہننے کی اجازت دی۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٤٠٩‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)-
علامہ بدرالدین عینی حنفی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں : -
علامہ نووی نے فرمایا ہے کہ یہ حدیث امام شافعی اور ان کے موافقین کے موقف پر صراحۃ دلالت کرتی ہے کہ اگر مردوں کو خارش ہو تو انکے لیے ریشم جائز ہے۔ (عمدۃ القاری ج ٤ ص ١٩٦‘ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ ‘ مصر ١٣٤٨ ھ) -
ملا علی قاری حنفی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں : -
جوؤں یا خارش کی وجہ سے ریشم پہننے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ (مرقات ج ٨ ص ٢٤٢‘ مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ‘ ملتان ‘ ١٣٩٠ ھ) -
امام ابوداؤد روایت کرتے ہیں : -
عبدالرحمن بن طرفہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے دادا عرفجہ بن اسعد کی جنگ کلاب میں ناک کٹ گئی ‘ انہوں نے چاندی کی ناک گالی ‘ اس میں بدبو پیدا ہوگئی تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں سونے کی ناک بنانے کا حکم دیا۔ امام ابوداؤد نے اس حدیث سے دانت کو سونے کے ساتھ باندھنے کے جواز پر استدلال کیا ہے۔ (سنن ابوداؤد ج ٢ ص ‘ ٢٢٥ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ) -
امام ترمذی نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے اور اس حدیث سے دانت کو سونے کے ساتھ باندھنے کے جواز پر استدلال کیا ہے۔ (جامع ترمذی ص ‘ ٢٦٨ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی) -
امام نسائی۔ ١ (امام احمد بن شعیب نسائی متوفی ٣٠٢ ھ ‘ سنن نسائی ج ٢ ص ٢٨٥‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی) -
اور امام احمد۔ ٢ (امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ، مسنداحمد ج ٥ ص، ٢٣ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت، ١٣٩٨ ھ) نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ -
ملا علی قاری اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں : -
اس حدیث کی بناء پر سونے کی ناک لگانے اور سونے کے ساتھ دانت کے باندھنے کو جائز قرار دیا گیا ہے۔ (مرقات ج ٨ ص ٢٨٠‘ مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ‘ ملتان ‘ ١٣٩٠ ھ) -
ہم نے اس بحث میں فقہاء احناف ‘ فقہاء شافعیہ اور فقہاء مالکیہ کی تصریحات پیش کی ہیں کہ ضرورت کے وقت حرام دواؤں سے علاج کرنا جائز ہے ‘ فقہاء حنبیلہ کا اس مسئلہ میں اختلاف ہے ‘ بعض منع کرتے ہیں اور جمہور جائز کہتے ہیں ‘ علامہ مرداوی حنبلی لکھتے ہیں : -
جمہور اصحاب کے نزدیک اضطرار کے وقت حرام چیز بہ قدر ضرورت کھانا جائز ہے اور اضطرار اس وقت ہے جب جان کی ہلاکت کا خدشہ ہو یا جان کے نقصان کا خدشہ ہو یا مرض کا خدشہ ہو یا مرض کے بڑھنے کا خدشہ ہو اور اگر مرض کے طول کا خدشہ ہو تو صحیح مذہب یہ ہے کہ پھر بھی اضطرار ہے۔ (الانصاف ج ١٠ ص ٣٧٠۔ ٣٦٩‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٣٧٢ ھ) -
صحت اور زندگی کی حفاظت کا حکم باقی تمام احکام پر مقدم ہے بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ خون کی حرمت قطعی ہے اور خون منتقل کرنے سے مریض کا بچ جانا یا اس کا صحت یاب ہوجانا ظنی ہے اور ظنی فائدہ کی امید پر حرام قطعی کا ارتکاب کرنا جائز نہیں ہے ‘ اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو عرنیین کو بیماری میں اونٹنیوں کا پیشاب پلایا تھا ‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کو وحی کے ذریعہ علم تھا کہ انکی اسی سے شفا ہوگی اور وحی کا علم قطعی ہے ‘ اس لیے اس سے معارضہ نہیں کیا جاسکتا ‘ اور فقہاء نے شدید بھوک کی حالت میں مردار اور خنزیر کھانے کا جو جواز لکھا ہے اس سے بھی معارضہ صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ کسی چیز کے کھانے سے بھوک کا زائل ہونا قطعی ہے اور دوا سے بیماری کا علاج ظنی ہے ‘ اسی طرح یہ استدلال بھی صحیح نہیں ہے کہ فقہاء نے لکھا ہے کہ اگر حلق میں لقمہ پھنسا ہو اہو اور کوئی اور پینے کی چیز نہ ملے تو شراب کا گھونٹ پی کر لقمہ کو حلق سے نیچے اتارنا جائز ہے کیونکہ کسی مشروب سے لقمہ کا حلق سے اترجانا قطعی ہے اور دوا سے صحت اور شفا کا حاصل ہونا ظنی کے لیے فرض قطعی کو ترک کردیا جائے گا ‘ قرآن مجید میں ہے :-
(آیت) ” ولاتقتلوا انفسکم ان اللہ کان بکم رحیما “۔ (النساء : ٢٩) -اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو ‘ بیشک اللہ تم پر بےحد رحم فرمانے والا ہے۔ -
(آیت) ” ولا تلقوا بایدیکم الی التھل کہ ’(البقرہ : ١٩٥) -
ترجمہ : اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ -
رمضان میں روزہ رکھنا فرض قطعی ہے ‘ لیکن اگر روزہ رکھنے سے بیمار پڑنے یا مرض بڑھنے کا خدشہ ہو تو اللہ تعالی نے رمضان میں روزہ نہ رکھنے اور بعد میں اس کو قضاء کرنے کا حکم دیا ہے۔-
(آیت) ” فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ ‘ ومن کان مریضا او علی سفر فعدۃ من ایام اخر ‘ یرید اللہ بکم الیسر ولا یریدبکم العسر ولتکملوا العدۃ۔ (البقرہ : ١٨٥) -
ترجمہ : تم میں سے جو شخص اس مہینہ میں موجود ہو تو وہ ضرور اس ماہ کے روزے رکھے اور جو شخص بیمار یا مسافر ہو (اور روزے نہ رکھے) تو اسے دوسرے دنوں میں (قضاشدہ) عدد پورا کرنا لازم ہے اللہ تم پر آسانی کا ارادہ فرماتا ہے اور تنگی کا ارادہ نہیں فرماتا اور تاکہ تم عدد پورا کرو۔ -
روزہ رکھنے سے بیماری لاحق ہونا ‘ یابیماری کا بڑھنا ‘ اسی طرح سفر سے مشقت کا لاحق ہونا ایک امر ظنی ہے لیکن اس امر ظنی کی وجہ سے فرض قطعی کو ترک کرنے کا حکم دیا ہے اس سے واضح ہوگیا کہ زندگی اور صحت کی حفاظت کرنے کا حکم باقی تمام فرائض پر مقدم ہے اور اگر کوئی شخص روزہ رکھنے کے حکم پر عمل کرنے کو صحت کی حفاظت پر مقدم کرے اور سفر کی مشقت برداشت کرکے روزہ رکھے تو وہ گنہگار ہوگا۔ امام مسلم روایت کرتے ہیں۔ -
حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے سال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ماہ رمضان میں مکہ مکرمہ روانہ ہوئے۔ آپ نے روزہ رکھ لیا حت کہ آپ کراع الغمیم پر پہنچ گئے ‘ سو لوگوں نے بھی روزہ رکھ لیا تھا ‘ پھر آپ نے پانی کا پیالہ منگایا اور اس کو اوپر اٹھا کر پی لیا ‘ جس کو سب لوگوں نے دیکھ لیا ‘ پھر آپ کو بتایا گیا کہ بعض لوگ بدستور روزہ سے ہیں اور ان پر روزہ دشوار ہورہا ہے ‘ آپ نے فرمایا : یہ لوگ نافرمان ہیں ‘ یہ لوگ نافرمان ہے (صحیح مسلم ج ١ ص ٣٥٦‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ) -
علامہ نووی لکھتے ہیں : -
یہ حدیث اس شخص پر محمول ہے جس کو سفر میں روزہ رکھنے سے ضرر ہو (شرح مسلم ج ١ ص ٣٥٦‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ) -
اس حدیث سے واضح ہوگیا کہ صحت کو قائم رکھنا روزہ رکھنے پر مقدم ہے حالانکہ روزہ رکھنا فرض قطعی ہے ‘ اور سفر میں روزہ رکھنے سے مشقت کا لاحق ہونا ایک امر ظنی ہے اور اس امر ظنی کی بناء پر اس فرض قطعی کو ترک کرنا واجب ہے اور اس پر عمل کرنا گناہ ہے۔ -
نیز امام مسلم روایت کرتے ہیں : -حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک سفر میں تھے ‘ ہم میں سے بعض روزہ دار تھے اور بعض نے روزہ نہیں رکھا تھا ‘ اس دن بہت سخت گرمی تھی ‘ ہم نے ایک جگہ قیام کیا ہم میں سے اکثر لوگ چادروں سے اپنے اوپر سایا کیے ہوئے تھے اور بعض اپنے ہاتھوں سے اپنے اوپر سایا کر رہے تھے ‘ روزہ دار (بےہوش ہو کر) گرگئے اور روزہ نہ رکھنے والوں نے ان پر سایا کیا اور ان پر پانی کے چھینٹے ڈالے ‘ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آج روزہ نہ رکھنے والے اجر لے گئے۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ٣٥٦‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ) -
علامہ المرغینانی حنفی لکھتے ہیں : -
جو شخص رمضان میں بیمار ہو اور اس کو یہ خدشہ ہو کہ اگر اس نے روزہ رکھا تو اس کا مرض بڑھ جائے گا توہ وہ روزہ نہ رکھے اور قضاء کرے ‘ امام شافعی کہتے ہیں کہ وہ روزہ رکھے وہ (روزہ نہ رکھنے کے لیے) جان کی ہلاکت یا عضو کی ہلاکت کا اعتبار کرتے ہیں اور ہم یہ کہتے ہیں کہ مرض کا زیادہ ہونا اور اس کا بڑھنا کبھی ہلاکت کا موجب ہوتا ہے اس لیے اس سے احتراز کرنا واجب ہے۔ (ہدایہ اولین ص ٢٢١‘ مطبوعہ شرکت علمیہ ‘ ملتان) -
مرض کا زیادہ ہونا ایک امر ظنی ہے ‘ اسی طرح امام شافعی کے اعتبار سے روزہ رکھنے سے جان یا عضو کی ہلاکت بھی ایک امر ظنی ہے اور اس امر ظنی کی وجہ سے رمضان میں روزہ رکھنے کے قطعی حکم کے ترک کرنے کو نہ صرف جائز بلکہ واجب قرار دیا گیا ہے ‘ اس سے واضح ہوگیا کہ صحت اور زندگی کی حفاظت کا حکم باقی تمام احکام پر مقدم ہے۔ -
نیز علامہ المرغینانی حنفی لکھتے ہیں : -
اگر ایک شخص مسافر ہو اور اس کو روزہ سے ضرر نہ ہو تو اس کا روزہ رکھنا افضل ہے اور اگر وہ روزہ نہ رکھے تو جائز ہے کیونکہ سفر مشقت سے خالی نہیں ہوتا اس لیے سفر میں نفس مشقت کو (روزہ نہ رکھنے کا) عذر قرار دیا گیا ہے اس کے برخلاف مرض میں کبھی روزہ رکھنے سے فائدہ ہوتا ہے (جیسے ہیضہ میں) اس لیے مرض میں روزہ نہ رکھنے کے لیے یہ شرط لگائی گئی ہے کہ روزہ رکھنے سے ضرر ہو۔ -
امام شافعی یہ کہتے کہ سفر میں (مطلقا) روزہ نہ رکھنا افضل ہے کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے۔ (صحیح بخاری) -
ہمارے نزدیک یہ حدیث اس سفر پر محمول ہے جس میں مشقت ہو اور اگر مریض اور مسافر اسی حال میں مرجائیں تو ان پر قضا لازم نہیں ہے۔ (ہدایہ اولین ص ٢٢١‘ مطبوعہ شرکت علمیہ ‘ ملتان) -
سفر میں مشقت کا لاحق ہونا بھی ایک امر ظنی ہے جس کی بناء پر رمضان میں روزہ کے قطعی حکم کو ترک کرنے کی رخصت دی گئی ہے۔ -
نیز علامہ المرغینانی حنفی لکھتے ہیں : -
حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتیں جب (رمضان میں) روزہ رکھنے سے اپنے اوپر یا اپنے بچہ کے اوپر (ضرر کا) خوف محسوس کریں تو روزہ نہ رکھیں اور قضا کریں تاکہ ان پر تنگی نہ ہو (ہدایہ اولین ص ٢٢٢‘ مطبوعہ شرکت علمیہ ‘ ملتان) -
حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتوں کو روزہ رکھنے سے ضرر کا لاحق ہونا بھی ایک امر ظنی ہے۔ (رد المختار ج ٢ ص ١١٦) -
علامہ علاء الدین حصکفی لکھتے ہیں : -

غلبہ ظن ‘ علامات ‘ تجربہ یا مسلمان ماہر طبیب کے بتانے سے اگر تندرست شخص کو روزہ رکھنے سے بیمار پڑنے کا خدشہ ہو تو ان کے لیے (رمضان میں) روزہ نہ رکھنا جائز ہے اور جب وہ روزہ رکھنے پر قادر ہوں تو اس کی لازما قضا کریں۔ (درمختار علی ھامش رد المختار ج ٢ ص ١١٧۔ ١١٦ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)-
جوشخص بہت بوڑھا ہو یا جس کو ایسا مرض لاحق ہو جس سے شفاء کی امید نہیں ہے (جیسے ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر) اور اس وجہ سے اس کو روزہ رکھنے کی طاقت نہ ہو اس کے لیے روزہ نہ رکھنے کی رخصت ہے اور اس پر ہر روزہ کے بدلہ میں ایک مسکین کے طعام کا (دوکلوگندم) فدیہ دینالازم ہے ‘ قرآن مجید میں ہے۔ -
(آیت) ” وعلی الذین یطیقونہ فدیۃ طعام مسکین “۔ (البقرہ : ١٨٤) -
ترجمہ : اور جو لوگ روزہ کی طاقت نہ رکھتے ہوں ‘ ان پر ایک مسکین کے طعام کا فدیہ لازم ہے۔ -
علامہ شامی لکھتے ہیں :-
شیخ فانی اور جس شخص کو ایسا مرض لاحق ہو جس سے شفا کی امید نہ ہو ‘ اس رخصت میں داخل ہیں۔ (رد المختار ج ٢ ص ١١٩ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)-
کسی مرض سے شفا کی امید نہ ہونا بھی امر ظنی ہے ‘ جس کا مدار تجربہ ‘ مشاہدہ اور طبیب کے قول پر ہے اور ان میں سے کوئی چیز قطعی نہیں ہے اور اس کی بناء پر دائما روزہ کو ترک کرنے اور اس کے بدلہ میں فدیہ دینے کا حکم دیا گیا ہے ‘ حالانکہ روزہ کا حکم فرض قطعی ہے۔ -
امام بخاری نے ایک باب کا یہ عنوان قائم کیا ہے : جب جنبی کو اپنے نفس پر موت کا یا مرض کا خدشہ ہو یا پیاس کا اندیشہ ہو تو وہ تیمم کرلے اور اس کے تحت یہ حدیث ذکر کی ہے۔ -
حضرت عمرو بن العاص (رض) سردی کی ایک رات میں جنبی ہوگئے ‘ انہوں نے تیمم کیا اور یہ آیت تلاوت کی : -
(آیت) ” ولا تقتلوا انفسکم ‘ ان اللہ کان بکم رحیما “۔۔ (النساء : ٢٩) -
ترجمہ : اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو ‘ بیشک اللہ تم پر بےحد رحم فرمانے والا ہے۔ -
پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس واقعہ کا ذکر کیا گیا تو آپ نے اس پر ملامت نہیں کی ‘ یعنی اس عمل کو صحیح قرار دیا۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٤٩ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)-
جنبی کے لیے غسل کرنے کا حکم فرض قطعی ہے اور سردی میں غسل کرنے سے موت یا مرض کا اندیشہ محض ظن پر مبنی ہے ‘ حضرت عمرو بن العاص (رض) نے اس ظن کی بنا پر فرض قطعی کو ترک کردیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس عمل کو مقرر رکھا اور صحیح قرار دیا اور امام بخاری نے اس سے یہ مسئلہ مستنبط کیا کہ جنبی کے لیے مرض یا موت کے اندیشہ سے غسل کی بجائے تیمم کرنا جائز ہے۔ -
قرآن مجید ‘ احادیث ‘ محدثین اور فقہاء کی تصریحات سے یہ واضح ہوگیا کہ صحت اور زندگی کی حفاظت کا حکم باقی تمام احکام پر مقدم ہے۔- علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں 
بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ جب تک یہ یقین نہ ہو کہ حرام چیز کے علاوہ اور کسی چیز میں شفا نہیں ہے اس کا استعمال جائز نہیں ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ غیر نبی کے لیے یقین کا حصول ممکن نہیں ہے اس لیے عام مکلفین کے لیے صرف غلبہ ظن کا اعتبار کیا جائے گا۔ علامہ شامی لکھتے ہیں ؛ -
تم کو معلوم ہے کہ اطباء کے قول سے یقین حاصل نہیں ہوتا اور ظاہر یہ ہے کہ تجربہ سے بھی غلبہ ظن حاصل ہوتا ہے یقین حاصل نہیں ہوتا ‘ البتہ فقہاء علم اور یقین سے غلبہ ظن مراد لیتے ہیں اور ان کی عبارات میں یہ اطلاق عام اور شائع ہے۔ (ردالمختار ج ١ ص “ ١٤٠ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ) -
اللہ کی دی ہوئی رخصت پر عمل کرنا واجب ہے :-
اس بحث میں یہ بات محلوظ رہنی چاہیے کہ ہم اپنی زندگی کے مالک نہیں ہیں ‘ ہمارے پاس یہ زندگی اللہ تعالی کی امانت ہے ‘ ہم اس کو ضائع کرنے یا نقصان پہنچانے کے مجاز نہیں ہیں ‘ اس لیے کسی مضر چیز کو استعمال کرکے زندگی اور صحت کو نقصان پہنچانا جائز ہے نہ بیماری میں علاج کو ترک کرکے زندگی اور صحت کو نقصان پہنچانا جائز ہے بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ بیماری میں حرام چیز سے علاج نہ کرنا عزیمت اور تقوی ہے اور علاج کرنا رخصت اور فتوی ہے اور عزیمت اور تقوی پر عمل کرنا افضل ہے ‘ یہ محض جہالت کی بات ہے۔ اللہ تعالی نے عذر کی حالت میں جو رخصت دی ہے اس پر عمل کرنا واجب ہے اور عمل نہ کرنا گناہ ہے۔ -(تفسیر تبیان القرآن اؤل صفحہ ٦٤٤) 
خلاصۂ تحقیق و حکمِ شرعی
مذکورہ بالا قرآنِ کریم، احادیثِ مبارکہ، ائمۂ محدثین اور فقہائے کرام کی تصریحات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ حرام یا ناپاک چیز سے علاج اصلِ اختیار کی حالت میں جائز نہیں، خصوصاً جب اس کے بدلے کوئی حلال اور پاک دوا موجود ہو۔
البتہ اگر کسی حقیقی مرض میں حلال دوا سے علاج ممکن نہ ہو، اور کسی ماہر، مسلمان اور قابلِ اعتماد طبیب کے مشورے سے یہ معلوم ہو یا غلبۂ ظن حاصل ہو کہ مخصوص حرام یا ناپاک چیز میں مریض کے لیے شفا یا علاج کا مؤثر ذریعہ موجود ہے، اور اس کا کوئی مناسب حلال متبادل دستیاب نہیں، تو ضرورت کے بقدر اس کے استعمال کی شرعی گنجائش ہے۔
اس کی بنیاد فقہائے کرام کی ان تصریحات پر ہے کہ ضرورت کے وقت بعض ممنوع اشیاء بھی بقدرِ ضرورت استعمال کی جا سکتی ہیں، جیسے شدید اضطرار میں مردار وغیرہ کے استعمال کی رخصت دی گئی ہے۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ کے عہدِ مبارک میں عرنیین کو اونٹنیوں کے دودھ اور پیشاب سے علاج کرانے کا واقعہ صحیح احادیث میں موجود ہے۔
لہٰذا اس مسئلے میں دو انتہاؤں سے بچنا ضروری ہے:
پہلی انتہا: ہر حرام چیز کو بلا ضرورت دوا قرار دینا۔
دوسری انتہا: حقیقی ضرورت کے باوجود شریعت کی دی ہوئی رخصت کا انکار کرنا اور یہ سمجھنا کہ ہر حال میں علاج ترک کرنا ہی تقویٰ ہے۔
صحیح طریقہ یہ ہے کہ:
پہلے حلال اور پاک دوا سے علاج کی پوری کوشش کی جائے۔
حرام یا ناپاک دوا کا کوئی مؤثر حلال متبادل موجود ہو تو حرام دوا استعمال نہ کی جائے۔
اگر حلال متبادل نہ ہو تو ماہر اور قابلِ اعتماد مسلمان طبیب سے مشورہ کیا جائے۔
صرف معتبر طبی تحقیق، تجربہ یا غالب گمان کی بنیاد پر ضرورت کا اعتبار کیا جائے؛ محض سنی سنائی بات یا غیر مستند انٹرنیٹ/سوشل میڈیا کی معلومات پر عمل نہ کیا جائے۔
حرام چیز کا استعمال صرف بقدرِ ضرورت ہو، ضرورت سے زائد نہیں۔
مریض یا عام شخص خود سے کسی چیز کو حرام دوا قرار دے کر استعمال نہ کرے، بلکہ مخصوص صورتِ حال میں اہلِ علم اور ماہر طبیب دونوں سے رجوع کرے۔
یہاں یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ ہر حرام چیز ہر بیماری کے لیے محض اس دعوے سے حلال نہیں ہوجاتی کہ اس میں شفا ہے۔ بلکہ شرعی رخصت اسی وقت متعلق ہوگی جب حقیقی ضرورت پائی جائے، حلال متبادل نہ ہو، اور علاج کے مؤثر ہونے کا معتبر سبب موجود ہو۔
لہٰذا ہماری اس تحقیق کا مقصد حرام چیزوں کے استعمال کو عام کرنا نہیں، بلکہ شریعت کے اصل حکم، ضرورت کے شرعی اصول اور فقہائے کرام کی بیان کردہ رخصت کو واضح کرنا ہے۔
خصوصاً موجودہ دور میں طبی سائنس نے بہت ترقی کی ہے، اس لیے کسی دوا کے اجزاء، اس کے طبی اثرات اور متبادل ادویہ کے بارے میں معلومات حاصل کرنا پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہے۔ تاہم جدید طبی معلومات کو شرعی حکم کا مستقل متبادل نہیں بنایا جاسکتا؛ بلکہ طبی حقیقت معلوم کرنے کے لیے ماہر طبیب اور شرعی حکم معلوم کرنے کے لیے مستند مفتی و عالم سے رجوع کیا جائے۔
پس خلاصہ یہ ہے کہ بلا ضرورت حرام دوا سے علاج جائز نہیں، لیکن حقیقی ضرورت، عدمِ حلال بدل اور معتبر طبی رائے یا غلبۂ ظنِ شفا کی صورت میں بقدرِ ضرورت اس کے استعمال کی شرعی گنجائش ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں شریعتِ مطہرہ کے احکام کو صحیح طور پر سمجھنے، حلال کو اختیار کرنے، حرام سے بچنے اور ضرورت کے وقت اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ شرعی رخصت کو صحیح طریقے سے استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
تحقیق و تصنیف
ابو احمد محمد رضا نوری قادری حنفی
 دارالافتاء گلزار طیبہ تحقیق سینٹر

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ  سوال کیا فرماتے ہیں مفتیان اعظم مسلہ ذیل میں ہندستان کے کفار سے سود لینا کیسا اور ہندوستان کی بینکوں سے ملنے والا سود کا کیا حکم ہے اور کیا ہندوستان کے کفار حربی ہے ان سوالات کا جواب عنایت فرمائیں سایل محمد علی سانوا باڑمیر راجستھان  وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ الجواب وباللہ توفیق  تحقیق یہ ہے کہ ہندوستان کے کفار سے بھی سودی معاملات جایز نہیں اور ہندوستان کی بینکوں سے ملنے والا سود بھی حرام ہے اس رقم کو بغیر نیت ثواب کے  کسی غریب کو دے دیں اب آے اس مسلے پر تفصیلی گفتگو کرتے ہیں  دارالحرب کے سود میں جمہور فقہا کا نظریہ علامہ ابن قدامہ حنمبلی فرماتےہے دارالحرب میں سود اسی طرح حرام ہے جس طرح دارال اسلام میں سود حرام ہے امام احمد امام مالک امام اوزاعی امام ابو یسف امام شافعی اور اسحاق کا بھی یہی مزہب ہے امام ابو حنیفہ نے کہا کہ مسلمان اور حربی کے درمیان دارالحرب میں ربا جاری نہیں ہوگا اور ان سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ دو شخص دارالحرب میں مسلمان ہو گئے توان کے درمیان ربا (سود) نہیں ہوگا اور ان کے اموال مباح ہیں علامہ غلام رسول س...

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا حنفی دارالافتا۶ - 01/03/2025  کیا فرماتے ہے مفیان کرام کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کا اثر ہوا تھا اور ہوا تھا تو اس پر صحیح حدیث موجود ہے اور دوسرا سوال یہ ہے کہ صحیح بخاری کی اس حدیث کا کیا جواب ہے جس میں ہے کہ وحی رک گئی تو آپ نے اپنے آپ کو پہاڈ سے گرانا چاہا جواب عنائت فرمائے سائل محمد علی کچھ گجرات  الجواب و باللہ توفیق کسی بھی مسئلے میں قائدہ یہ ہے کہ اس کو قرآن کے سامنے پیش کریں گے اگر قرآن کے خلاف ہے تو اگرچہ حدیث صحیح ہو اس کو قبول نہیں کیا جائے گا آپ پر جادو کا اثر ہوا تھا اس پر جمہور مفسرین نے یہ ہی لکھا ہے تبیان القرآن جلد۔ اول صفہ ۱۰۴۸میں ہے  امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606  ھ لکھتے ہیں :- جمہور مفسرین نے یہ کہا ہے کہ لبیدبن اعصم یہودی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر گایرہ گرہوں میں جادو کیا تھا اور اس دھاگے کو ذروان نامی کنوئیں کی تہہ میں ایک پتھر کے نیچے دبا دیا تھا، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار ہوگئے اور تین دن آپ پر سخت گزرے، پھر اس وجہ سے معوذتین نازل ہوئیں اور حضرت جبریل نے آ کر آپ کو ...