سوال کفار اپنے بتوں کے نام بکرا چڑاتے ہے تو ان کو بکرا فروخت کرنا کیسا ہے
### الجواب وباللہ توفیق
صورتِ مسئولہ میں اگر کوئی غیر مسلم اس مقصد سے بکرا خریدتا ہے کہ اسے اپنے بت کے نام پر چڑھائے گا یا غیر اللہ کے لیے ذبح کرے گا، اور فروخت کرنے والے کو اس مقصد کا علم بھی ہے، تو ایسی صورت میں اسے بکرا فروخت کرنا جائز نہیں؛ کیونکہ یہ گناہ اور غیر اللہ کی عبادت کے کام میں اعانت کرنا ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
> وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ”اور گناہ اور زیادتی پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔“(سورۃ المائدہ، 5:2)
لہٰذا اگر خریدار صاف طور پر بتائے کہ یہ بکرا بت کے نام پر چڑھانے کے لیے ہے، یا فروخت کنندہ کو یقینی طور پر معلوم ہو کہ وہ اسی حرام مذہبی رسم میں استعمال کرے گا، تو اس مقصد کے لیے فروخت کرنا ناجائز ہوگا، اور اس سے اجتناب لازم ہے۔
فتاویٰ رضویہ میں ہے:
> ”مسلمان نے مجوسی کی بکری اس کے آتشکدہ کے لیے یا کافر کی بکری ان کے بتوں کے لیے اللہ کے نام سے ذبح کیا تو وہ کھائی جائے گی، کیونکہ مسلمان نے اللہ کے نام سے ذبح کیا ہے، البتہ مسلمان کے لیے اس صورت میں کراہت لکھتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ مسلمان کو ایسا فعل کرنا نہ تھا کہ اس میں بظاہر گویا اس کافر کا کام پورا کرنا اور اس کے زعم میں اس کے قصدِ مذموم کا آلہ بننا ہے۔“(فتاویٰ رضویہ، جلد 20، صفحہ 233)
اس عبارت سے معلوم ہوا کہ اگرچہ مسلمان اپنے ہاتھ سے اللہ تعالیٰ کا نام لے کر ذبح کرے تو ذبیحہ کے حلال ہونے کا حکم اپنی جگہ ہے، لیکن کافر کے مذموم مذہبی مقصد کی تکمیل میں آلہ بننا مسلمان کے لیے مکروہ ہے۔ چنانچہ جب براہِ راست اس مقصد کے لیے ذبح کرنا بھی مکروہ ہے، تو بت کے نام پر چڑھانے کے لیے جانور فروخت کرکے اس حرام رسم کی تکمیل میں تعاون کرنا بدرجۂ اولیٰ قابلِ اجتناب ہے۔
واللہ اعلم بالصواب کتبہ ابو احمد محمد رضا نوری قادری حنفی دارالافتاء گلزار طیبہ تحقیق سینٹر
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com