نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

کیمیکل والے خضاب

الجواب وبالله التوفيق

داڑھی کے بالوں میں مہندی لگانا شرعاً جائز بلکہ مردوں کے لیے خضابِ حناء (مہندی) مستحب ہے، بشرطیکہ اس میں کوئی ناپاک یا شرعاً ممنوع جز شامل نہ ہو۔ لہٰذا بازار کی ایسی مہندی جس کے اجزاء پاک ہوں، استعمال کی جاسکتی ہے؛ البتہ محض مارکیٹ میں دستیاب ہونے کی وجہ سے ہر قسم کی مہندی کو بلا تحقیق جائز نہیں کہا جائے گا۔

مہندی لگانے کے بعد اگر صرف رنگ باقی رہے اور کوئی جرم یا تہہ باقی نہ رہے جو پانی کو بالوں تک پہنچنے سے روکے، تو وضو اور غسل بالکل درست ہیں؛ کیونکہ محض رنگ پانی کے پہنچنے میں مانع نہیں۔

اور اگر کسی مہندی کا ایسا جرم/تہہ بالوں پر باقی رہ جائے جو پانی کو بالوں تک پہنچنے سے روک دے، تو وضو یا غسل سے پہلے اسے دور کرنا ضروری ہے۔

لہٰذا بہتر یہی ہے کہ ایسی مہندی استعمال کی جائے جس میں پاک اجزاء ہوں، خالص سیاہ رنگ نہ ہو اور دھونے کے بعد صرف رنگ باقی رہے، پانی روکنے والی تہہ نہ رہے۔

خلاصہ: مہندی کا صرف رنگ وضو کے لیے مانع نہیں، البتہ پانی روکنے والی تہہ مانع ہے۔
عموماً جو مہندی رائج ہے اسے لگانے کے بعد جب رنگ آجائے تو اس کی تہہ نہیں جمتی، اس لیے اس کا صرف رنگ وضو اور غسل سے مانع نہیں ہوگا، اگرچہ جب اس کا رنگ جھڑنے لگے تو وہ جھلی یا چھلکے کی صورت میں چھوٹے۔ البتہ اگر واقعتاً کوئی ایسی مہندی ہو جس کے رنگ  کی تہہ جمتی ہو اور وہ جسم تک پانی پہنچنے میں رکاوٹ ہو تو اسے لگاکر وضو اور غسل صحیح نہیں ہوگا۔ 

جرم دار مہندی کے متعلق فتاوی
 عالمگیری میں ہے: و الخضاب اذا تجسد و یبس یمنع تمام الوضوء و الغسل کذا فی السراج الوھاج‘‘ ترجمہ: خضاب جب جرم دار ہو اور خشک ہو جائے تو وضو اور غسل کی تمامیت سے مانع ہے یعنی اس کی وجہ سے وضو اور غسل تام نہیں ہو گا، السراج الوھاج میں اسی طرح ہے۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 1، صفحہ 6، مطبوعہ کراچی)

فتاوی خلیلیہ میں ہے: زیبائش و آرائش کی خواہ کوئی چیز ہو، اگر جرم دار ہو کہ اس کے استعمال سے ایک معمولی تہ جسم پر جم جاتی ہے، تو اس کے چھڑائے بغیر نہ وضو درست، نہ غسل روا اور ایسے وضو غسل سے نماز بھی ادا نہ ہوگی۔ (فتاوی خلیلیہ، جلد 3، صفحہ 235، مطبوعہ لاہور)

کسی معاملے میں حرج ہو، تو اسے دور کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ مَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ﴾ ترجمۂ کنز الایمان: تم پر دین میں کوئی تنگی (حرج) نہ رکھی۔ (پارہ 17، سورۃ الحج، آیت 78)

کشف الاسرار شرح اصول البزدوی میں ہے: ان اللہ تعالیٰ کما لم یکلف بما لیس فی الوسع لم یکلف بما فیہ الحرج“ ترجمہ: بیشک جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس چیز کا مکلف نہیں بنایا کہ جس کی طاقت نہ ہو، اسی طرح جس میں حرج ہو، اس کا مکلف بھی نہیں بنایا۔ (کشف الاسرار، جلد 4، صفحہ 30، مطبوعہ بیروت)

اپنے قصد سے فرض، واجب عبادات کو اپنی شرائط کے ساتھ پورا کرنے سے مانع حالت پیدا کرنا، ناجائز و گناہ ہے۔ خاتم المحققین علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ان اکل ھذہ الاشیاء عذر فی التخلف عن الجماعة ۔ ۔ اقول: کونہ یعذر بذلک ینبغی تقییدہ بما اذا اکل ذلک بعذر او اکل ناسیا قرب دخول وقت الصلاة لئلایکون مباشرا لما یقطعہ عن الجماعة بصنعہ“ ترجمہ: ان اشیاء (لہسن یا پیاز وغیرہ) کا کھانا ترکِ جماعت کا عذر ہے۔ ۔ میں کہتا ہوں: اس عذر کو اس قید کے ساتھ مقید کرنا ضروری ہے کہ یہ حکم اس صورت میں ہے کہ جب وہ کسی عذر سے یا نماز کا وقت داخل ہونے کے قریب بھول کر یہ چیزیں کھالے (تو اس کے لیے ترکِ جماعت کا عذر ہے) تاکہ اپنے فعل سے ترک جماعت کا مرتکب نہ بنے۔ (رد المحتار، جلد 2، صفحہ 526، مطبوعہ پشاور)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

تحقیق و تصنیف:
ابو احمد محمد رضا نوری قادری حنفی

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ  سوال کیا فرماتے ہیں مفتیان اعظم مسلہ ذیل میں ہندستان کے کفار سے سود لینا کیسا اور ہندوستان کی بینکوں سے ملنے والا سود کا کیا حکم ہے اور کیا ہندوستان کے کفار حربی ہے ان سوالات کا جواب عنایت فرمائیں سایل محمد علی سانوا باڑمیر راجستھان  وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ الجواب وباللہ توفیق  تحقیق یہ ہے کہ ہندوستان کے کفار سے بھی سودی معاملات جایز نہیں اور ہندوستان کی بینکوں سے ملنے والا سود بھی حرام ہے اس رقم کو بغیر نیت ثواب کے  کسی غریب کو دے دیں اب آے اس مسلے پر تفصیلی گفتگو کرتے ہیں  دارالحرب کے سود میں جمہور فقہا کا نظریہ علامہ ابن قدامہ حنمبلی فرماتےہے دارالحرب میں سود اسی طرح حرام ہے جس طرح دارال اسلام میں سود حرام ہے امام احمد امام مالک امام اوزاعی امام ابو یسف امام شافعی اور اسحاق کا بھی یہی مزہب ہے امام ابو حنیفہ نے کہا کہ مسلمان اور حربی کے درمیان دارالحرب میں ربا جاری نہیں ہوگا اور ان سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ دو شخص دارالحرب میں مسلمان ہو گئے توان کے درمیان ربا (سود) نہیں ہوگا اور ان کے اموال مباح ہیں علامہ غلام رسول س...

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا حنفی دارالافتا۶ - 01/03/2025  کیا فرماتے ہے مفیان کرام کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کا اثر ہوا تھا اور ہوا تھا تو اس پر صحیح حدیث موجود ہے اور دوسرا سوال یہ ہے کہ صحیح بخاری کی اس حدیث کا کیا جواب ہے جس میں ہے کہ وحی رک گئی تو آپ نے اپنے آپ کو پہاڈ سے گرانا چاہا جواب عنائت فرمائے سائل محمد علی کچھ گجرات  الجواب و باللہ توفیق کسی بھی مسئلے میں قائدہ یہ ہے کہ اس کو قرآن کے سامنے پیش کریں گے اگر قرآن کے خلاف ہے تو اگرچہ حدیث صحیح ہو اس کو قبول نہیں کیا جائے گا آپ پر جادو کا اثر ہوا تھا اس پر جمہور مفسرین نے یہ ہی لکھا ہے تبیان القرآن جلد۔ اول صفہ ۱۰۴۸میں ہے  امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606  ھ لکھتے ہیں :- جمہور مفسرین نے یہ کہا ہے کہ لبیدبن اعصم یہودی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر گایرہ گرہوں میں جادو کیا تھا اور اس دھاگے کو ذروان نامی کنوئیں کی تہہ میں ایک پتھر کے نیچے دبا دیا تھا، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار ہوگئے اور تین دن آپ پر سخت گزرے، پھر اس وجہ سے معوذتین نازل ہوئیں اور حضرت جبریل نے آ کر آپ کو ...