🕌 بسم اللہ الرحمن الرحیم
سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
انتخابات کے دوران امیدواروں سے دین کے کام کروانے کے بدلے ووٹ دینا، اور اس کے ساتھ ذاتی طور پر روپیہ لینا شرعاً کیسا ہے؟
الجواب بعون الملک الوہاب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
ووٹ ایک امانت اور ذمہ داری ہے، اسے ذاتی مال یا کسی دنیاوی فائدے کے بدلے دینا شرعاً درست نہیں۔ اگر کسی امیدوار سے یہ معاملہ طے کیا جائے کہ “آپ ہمیں اتنی رقم دیں یا ذاتی فائدہ پہنچائیں، ہم آپ کو ووٹ دیں گے” تو یہ رشوت کے مفہوم میں داخل ہے، اور رشوت لینا اور دینا دونوں ناجائز ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ﴾
“اور آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ۔”
📖 سورۃ البقرۃ، آیت 188
اور رسول اللہ ﷺ نے رشوت دینے اور لینے والے پر سخت وعید فرمائی ہے:
«لَعَنَ رَسُولُ اللهِ ﷺ الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ»
“رسول اللہ ﷺ نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر لعنت فرمائی۔”
📖 سنن ابی داؤد، جامع ترمذی
لہٰذا ووٹ کے بدلے ذاتی طور پر روپیہ لینا جائز نہیں، خواہ رقم کم ہو یا زیادہ۔
البتہ اگر کسی امیدوار سے یہ کہا جائے کہ آپ کامیاب ہوکر مسجد، مدرسہ، دینی تعلیم، غریبوں کی مدد، پانی، سڑک یا دیگر جائز اجتماعی کام کریں، تو محض کسی جائز عوامی کام کا مطالبہ کرنا بذاتِ خود رشوت نہیں۔ لیکن اگر اسی کام کو ووٹ کی قیمت یا سودا بنا دیا جائے کہ “آپ یہ کام کریں گے تو ہم آپ کو ووٹ دیں گے” تو یہ درست طریقہ نہیں۔
ووٹ دیتے وقت معیار یہ ہونا چاہیے کہ کون شخص زیادہ اہل، دیانت دار اور عوام و ملک کے لیے بہتر ہے؛ نہ یہ کہ کون شخص ہمیں ذاتی طور پر زیادہ پیسہ یا فائدہ دے رہا ہے۔
خلاصہ
🔹 ووٹ کے بدلے ذاتی روپیہ لینا: ناجائز۔
🔹 روپیہ دے کر ووٹ خریدنا: ناجائز۔
🔹 ذاتی فائدے کے عوض ووٹ دینا: ناجائز۔
🔹 جائز اجتماعی و دینی کام کا مطالبہ کرنا: جائز، بشرطیکہ اسے ووٹ کی خرید و فروخت نہ بنایا جائے۔
🔹 ووٹ کو امانت سمجھ کر اہل اور بہتر امیدوار کا انتخاب کرنا: یہی درست طریقہ ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
خادم: ابو احمد محمد رضا قادری نوری حنفی
دارالافتاء گلزار طیبہ تحقیق سینٹر
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com