نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

کیا ہر عورت ناقص عقل ہے

دارالافتاء گلزار طیبہ تحقیق سینٹر

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے میں کہ زید نے کہا:

"مرد کے مقابلے میں عورت کا درجہ کم ہے، چاہے رابعہ بصری ہوں یا سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا، کیونکہ یہ سب ناقص العقل اور ناقص الدین ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نہ ان میں کوئی امام ہوئی، نہ مفتیہ اور نہ فقیہہ۔"

کیا زید کا یہ کہنا درست ہے؟

سائل: فقیر قادری عبدالقیوم اسماعیلی

الجواب وباللّٰہ التوفيق

زید کا مذکورہ کلام اس مطلق انداز میں درست نہیں، بلکہ اس میں متعدد شرعی مسائل کو باہم خلط کیا گیا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ
(النساء: 34)

اس آیت میں مردوں کی قوامیت، کفالت اور گھریلو ذمہ داری بیان ہوئی ہے، یہ حکم نہیں کہ ہر مرد ہر عورت سے علم، تقویٰ اور فضیلت میں افضل ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فضیلت کا اصل معیار تقویٰ قرار دیتے ہوئے فرمایا:

إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ أَتْقَاكُمْ
(الحجرات: 13)

یعنی اللہ کے نزدیک زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ متقی ہے۔

حدیثِ "ناقصات عقل ودین" کا صحیح مفہوم

صحیح بخاری میں حدیثِ "ناقصات عقل ودین" وارد ہے۔ خود نبی کریم ﷺ نے اس کی وضاحت فرمائی کہ نقصانِ عقل سے مراد مخصوص شرعی معاملۂ شہادت ہے، جبکہ نقصانِ دین سے مراد حیض کی وجہ سے نماز اور روزہ ترک کرنا ہے۔

لہٰذا اس حدیث سے یہ نتیجہ نکالنا کہ ہر عورت ہر مرد سے کم عقل، کم علم یا کم مرتبہ ہے صحیح نہیں۔

علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مردوں اور عورتوں میں افراد کے اعتبار سے عقل و فہم کا فرق پایا جاتا ہے؛ بعض مرد کمزور حافظہ رکھتے ہیں اور بعض عورتیں نہایت قوی حافظہ اور ذہانت رکھتی ہیں۔ حدیث میں نقصان کا بیان اکثریت کے اعتبار سے ہے، کلی طور پر ہر فرد کے بارے میں نہیں۔
(نعمت الباری شرح صحیح البخاری، جلد اول، ص 798)

عورت کا فقیہہ اور مفتیہ ہونا

زید کا یہ کہنا کہ عورتوں میں کوئی فقیہہ یا مفتیہ نہیں ہوئی، تاریخی طور پر غلط ہے۔

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا علمِ حدیث، فقہ اور فتویٰ میں ممتاز مقام رکھتی تھیں۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم ان سے دینی مسائل دریافت کرتے اور ان کے علم سے استفادہ کرتے تھے۔

اسی طرح ام الدرداء رضی اللہ عنہا بھی علم و فقہ میں معروف تھیں۔

لہٰذا عورت کا فقیہہ یا مفتیہ ہونا فی نفسہٖ ناممکن قرار دینا درست نہیں۔

سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کی شان

سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کو "ناقص العقل" کہہ کر تحقیر کرنا انتہائی نامناسب ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي، فَمَنْ أَغْضَبَهَا أَغْضَبَنِي

"فاطمہ میرے جسم کا ٹکڑا ہیں، جس نے انہیں ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔"

(صحیح البخاری، حدیث 3767)

اور رسول اللہ ﷺ نے ان کی عظیم فضیلت بھی بیان فرمائی ہے۔

مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"جنسِ مرد، جنسِ عورت سے افضل ہے، نہ کہ مرد کی ہر فرد عورت کی ہر فرد سے افضل۔ ہم جیسے لاکھوں مرد حضرت عائشہ صدیقہ اور فاطمۃ الزہرا کے نعلین کے برابر بھی نہیں۔ جنس اور چیز ہے، فرد کچھ اور۔"

(تفسیر نور العرفان)

خلاصۂ حکم

مرد و عورت کی جنس کے اعتبار سے بعض شرعی احکام اور ذمہ داریوں میں فرق اپنی جگہ مسلم ہے، مگر اس فرق سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہر مرد ہر عورت سے افضل ہو۔

اور عورت کا امام نہ بننا، اسے فقیہہ یا مفتیہ ہونے سے بھی محروم نہیں کرتا؛ کیونکہ امامت اور افتاء دو الگ شرعی مسائل ہیں۔

لہٰذا زید کا مذکورہ عمومی کلام غلط اور ناقابلِ قبول ہے۔ خصوصاً سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا اور دیگر صالحات و عالمات کے بارے میں تحقیر آمیز انداز اختیار کرنا سخت نامناسب ہے۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

ابو احمد محمد رضا نوری قادری حنفی 

دارالافتاء گلزار طیبہ تحقیق سینٹر
تحقیق ہمارا شعار — حق بات، بے باک انداز

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ  سوال کیا فرماتے ہیں مفتیان اعظم مسلہ ذیل میں ہندستان کے کفار سے سود لینا کیسا اور ہندوستان کی بینکوں سے ملنے والا سود کا کیا حکم ہے اور کیا ہندوستان کے کفار حربی ہے ان سوالات کا جواب عنایت فرمائیں سایل محمد علی سانوا باڑمیر راجستھان  وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ الجواب وباللہ توفیق  تحقیق یہ ہے کہ ہندوستان کے کفار سے بھی سودی معاملات جایز نہیں اور ہندوستان کی بینکوں سے ملنے والا سود بھی حرام ہے اس رقم کو بغیر نیت ثواب کے  کسی غریب کو دے دیں اب آے اس مسلے پر تفصیلی گفتگو کرتے ہیں  دارالحرب کے سود میں جمہور فقہا کا نظریہ علامہ ابن قدامہ حنمبلی فرماتےہے دارالحرب میں سود اسی طرح حرام ہے جس طرح دارال اسلام میں سود حرام ہے امام احمد امام مالک امام اوزاعی امام ابو یسف امام شافعی اور اسحاق کا بھی یہی مزہب ہے امام ابو حنیفہ نے کہا کہ مسلمان اور حربی کے درمیان دارالحرب میں ربا جاری نہیں ہوگا اور ان سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ دو شخص دارالحرب میں مسلمان ہو گئے توان کے درمیان ربا (سود) نہیں ہوگا اور ان کے اموال مباح ہیں علامہ غلام رسول س...

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا حنفی دارالافتا۶ - 01/03/2025  کیا فرماتے ہے مفیان کرام کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کا اثر ہوا تھا اور ہوا تھا تو اس پر صحیح حدیث موجود ہے اور دوسرا سوال یہ ہے کہ صحیح بخاری کی اس حدیث کا کیا جواب ہے جس میں ہے کہ وحی رک گئی تو آپ نے اپنے آپ کو پہاڈ سے گرانا چاہا جواب عنائت فرمائے سائل محمد علی کچھ گجرات  الجواب و باللہ توفیق کسی بھی مسئلے میں قائدہ یہ ہے کہ اس کو قرآن کے سامنے پیش کریں گے اگر قرآن کے خلاف ہے تو اگرچہ حدیث صحیح ہو اس کو قبول نہیں کیا جائے گا آپ پر جادو کا اثر ہوا تھا اس پر جمہور مفسرین نے یہ ہی لکھا ہے تبیان القرآن جلد۔ اول صفہ ۱۰۴۸میں ہے  امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606  ھ لکھتے ہیں :- جمہور مفسرین نے یہ کہا ہے کہ لبیدبن اعصم یہودی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر گایرہ گرہوں میں جادو کیا تھا اور اس دھاگے کو ذروان نامی کنوئیں کی تہہ میں ایک پتھر کے نیچے دبا دیا تھا، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار ہوگئے اور تین دن آپ پر سخت گزرے، پھر اس وجہ سے معوذتین نازل ہوئیں اور حضرت جبریل نے آ کر آپ کو ...