نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

خلا کے عوض دس لاکھ

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام ہندہ کا نکاح نابلغی میں زید سے کیا گیا تھا ہندہ اپ بالغ ہو چکی ہے مگر وہ زید کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی وہ خلا لینا چاہتی ہے مگر زید خلا کے عوض دس لاکھ روپے مانگ رہا ہے اور ہندہ کی مالی حیثیت اتنی نہیں ہے بعض علما بھی کہتے ہیں کہ مذہب حنفی میں اگر ذیادتی عورت کی طرف سے ہے تو خلا کے عوض جتنا مرضی پڑے اتنا مال لے سکتا ہے کیا اسلام میں اس طرح کا کوئی قانون ہے
الجواب بعون الملک الوہاب:

فقہِ حنفی میں یہ کہنا درست نہیں کہ اگر قصور عورت کی طرف سے ہو تو شوہر خلع کے عوض جتنا چاہے مال لے سکتا ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ میاں بیوی اللہ کی حدود قائم نہ رکھ سکیں گے تو عورت جو بدلہ دے کر علیحدگی حاصل کرے، اس میں دونوں پر گناہ نہیں۔

خلع کے عوض مال لینے کی گنجائش ہے، لیکن عورت کی مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھانا اور اس پر ناقابلِ برداشت مالی بوجھ ڈالنا درست نہیں۔ لہٰذا محض یہ کہنا کہ عورت کی طرف سے زیادتی ہے، شوہر کے لیے دس لاکھ روپے کا مطالبہ شرعاً جائز ہونے کی دلیل نہیں بن سکتا۔ 
”اور تمہارے لیے جائز نہیں کہ تم نے اپنی بیویوں کو جو کچھ دیا ہے، اس میں سے کچھ بھی واپس لو۔“ (البقرہ: 229)

امام نسفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

اس آیت میں شوہروں سے خطاب ہے یا حکام سے خطاب ہے کہ تم نے جو کچھ بیویوں کو مہر میں دیا ہے، خلع کے عوض تمہارے لیے اس سے زیادہ لینا جائز نہیں ہے۔

(تبیان الفرقان، جلد 1، صفحہ 511)

کیا ان علما کو قرآنِ کریم کی یہ آیت نظر نہیں آتی؟ کیا انہیں امام نسفی رحمۃ اللہ علیہ کی یہ عبارت نظر نہیں آتی؟

”پھر اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ دونوں اللہ تعالیٰ کی حدود کو قائم نہیں رکھ سکیں گے، تو ان دونوں پر اس میں کوئی گناہ نہیں جو عورت بدلے میں دے۔“

اور اگر حکام کو یہ خطرہ ہو کہ شوہر اور بیوی اللہ تعالیٰ کی حدود کو قائم نہیں رکھ سکیں گے، تو مرد پر اس میں کوئی حرج نہیں کہ جو کچھ وہ مہر میں دے چکا ہے، اسے واپس لے لے، اور نہ عورت پر اس میں کوئی حرج ہے کہ جو کچھ اس نے مہر میں لیا ہے، اسے واپس کر دے۔

”یہ اللہ تعالیٰ کی حدود ہیں، لہٰذا ان سے تجاوز نہ کرو۔“

یعنی نکاح، قسم، ایلاء، طلاق اور خلع کے متعلق اللہ تعالیٰ نے جو احکام بیان فرمائے ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کی حدود ہیں۔ لہٰذا تم ان احکام کی مخالفت کرکے اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز نہ کرو، اور جس نے اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کیا، تو وہی اپنی جان پر ظلم کرنے والا ہے۔

(مدارک التنزیل، جلد 1، صفحات 190-191، دار ابن کثیر، بیروت، 1332ھ)
تفسیر احکام القرآن، سورۂ بقرہ، آیت 229 میں ہے:

فقہاء کا یہ قول کہ شوہر کو زائد لینے کی گنجائش نہیں ہے، اس روایت کی بنا پر ہے جو ہمیں عبدالباقی بن قانع نے سنائی ہے۔ انہیں عبداللہ بن احمد بن حنبل نے، انہیں محمد بن یحییٰ بن ابی سمیطہ نے، انہیں ولید بن مسلم نے ابن جریج سے، انہوں نے عطا سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کیا کہ ایک شخص اپنی بیوی کا جھگڑا حضور ﷺ کے پاس لے کر آیا۔

حضور ﷺ نے عورت سے فرمایا کہ کیا تو وہ سب کچھ واپس کر دے گی جو اس نے تجھے دیا ہے؟ اس نے جواب دیا: ہاں، اور اس سے کچھ زائد بھی۔ یہ سن کر حضور کریم ﷺ نے فرمایا: زائد لینے کی اجازت نہیں ہے۔ ہمارے اصحاب کا اس حدیث کی بنا پر یہ قول ہے کہ شوہر بیوی سے زائد مال نہیں لے گا۔

حضرت عطا رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے روایت بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ خلع لینے والی عورت سے اس مال سے زیادہ نہ لیا جائے جو اسے دیا گیا تھا۔

(السنن الکبریٰ للبیہقی، جلد 7، صفحہ 514، دارالکتب العلمیہ، بیروت)

اس روایت اور فقہائے کرام کی تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ خلع کے معاوضے میں عورت کے ساتھ ناانصافی نہیں کرنی چاہیے، خصوصاً جب قصور شوہر کی طرف سے ہو۔

انہوں نے ظاہر آیت کی اس حدیث کی بنا پر تخصیص کر دی ہے۔

اب آیت کی خبرِ واحد کی بنا پر تخصیص اس وجہ سے جائز ہو گئی کہ خبرِ واحد کو قبول کرنا جائز ہو گیا۔

ہمارے اصحاب کا جو یہ قول ہے کہ جب شوہر دیے ہوئے مال سے زائد پر یا کچھ مال پر صلح کرنے پر راضی ہو جائے، جبکہ بدسلوکی اور نفرت اس کی جانب سے ہو رہی ہو، تو یہ دنیوی حکم کے لحاظ سے درست ہوگا، اگرچہ فیما بینہ وبین اللہ اس کی گنجائش نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مال بیوی اپنی خوش دلی سے دے رہی ہے اور اسے اس پر مجبور نہیں کیا گیا ہے۔

حضور ﷺ کا ارشاد بھی ہے کہ کسی مسلمان کا مال لینا حلال نہیں، مگر یہ کہ وہ اپنی خوشی سے دے دے۔

نیز ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ممانعت کا تعلق خود عقد کے کسی مفہوم سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق اس کے سوا کسی اور چیز سے ہے، اور وہ یہ ہے کہ شوہر نے اسے اتنا نہیں دیا جتنا کہ اس سے لے لیا۔ اگر وہ اس قدر دیتا تو ٹھیک تھا۔
علمائے کرام کو اس معاملے میں سنجیدگی اور خوفِ خدا کے ساتھ غور کرنا چاہیے کہ کہیں فقہائے کرام کے اقوال کی آڑ میں کسی ایسے شخص کی حمایت تو نہیں کی جا رہی، جو ایک مجبور عورت اور اس کے اہلِ خانہ کی مالی حیثیت کو نظر انداز کرکے ان پر ناقابلِ برداشت بوجھ ڈال رہا ہے۔

بلاشبہ، اگر عورت کی طرف سے غلطی ہو تو اس کا انکار نہیں، لیکن عورت کی غلطی کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ شوہر کو اس کے والدین کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھانے اور ان کی حیثیت سے بڑھ کر رقم کا مطالبہ کرکے انہیں پریشان کرنے کا کھلا اختیار مل جائے۔ شرعی مسئلے کا فیصلہ محض ایک فقہی عبارت کو سامنے رکھ کر نہیں، بلکہ اس کے تمام پہلوؤں، متعلقہ دلائل اور حالات کو ملحوظ رکھتے ہوئے کرنا چاہیے۔

ذرا ٹھنڈے دل سے سوچیے! اگر یہی معاملہ آپ کی اپنی بیٹی کے ساتھ پیش آتا، وہ شوہر کے ساتھ رہنے پر آمادہ نہ ہوتی اور شوہر خلع کے عوض دس لاکھ روپے کا مطالبہ کرتا، جبکہ آپ کی مالی حیثیت اتنی نہ ہوتی، تو کیا آپ اپنی بیٹی کی خاطر یہ مطالبہ بآسانی پورا کر دیتے؟ یا آپ بھی اپنی مجبوری بیان کرتے، کسی شرعی حل کی تلاش میں نکلتے اور اہلِ علم سے انصاف کی امید رکھتے؟

یقیناً کسی دوسرے کی تکلیف کو سمجھنے کے لیے اپنے آپ کو اس کی جگہ رکھ کر دیکھنا بہت ضروری ہے۔ جس معاملے میں ہم اپنی بیٹی کے لیے نرمی، سہولت اور انصاف چاہتے ہیں، اسی معاملے میں دوسروں کی بیٹیوں اور ان کے والدین کی مجبوریوں کو بھی سمجھنا چاہیے۔

اللہ تعالیٰ کا خوف کیجیے اور ایسے معاملات میں محض شوہر کے حق کو بیان کرکے اس کی ہر شرط کی تائید نہ کیجیے، بلکہ عورت کے حقوق، اس کے اہلِ خانہ کی مالی حیثیت اور شرعی حدود کو بھی سامنے رکھیے۔ فقہائے کرام کے اقوال اپنی جگہ قابلِ احترام ہیں، لیکن کسی قول کو اس کے سیاق و سباق سے الگ کرکے پیش کرنا اور اس سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی راہ ہموار کرنا درست طرزِ عمل نہیں۔

افسوس کہ جب ایسے معاملات میں عورت اور اس کے گھر والوں کی مجبوریوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے، مطالبات بڑھتے جاتے ہیں اور مصالحت کے راستے بند ہونے لگتے ہیں، تو بعض خاندان مایوس ہوکر عدالتوں کا رخ کرتے ہیں۔ وہاں بعض اوقات ایسے فیصلے بھی سامنے آتے ہیں جو ان کے نزدیک شرعی تقاضوں کے مطابق نہیں ہوتے۔ پھر اہلِ علم کے لیے بھی صورتِ حال مشکل ہوجاتی ہے، اور سب سے زیادہ نقصان ان خاندانوں کو اٹھانا پڑتا ہے جن کا گھر بسانے کے بجائے معاملہ مزید الجھ جاتا ہے۔

اس لیے اہلِ علم کی ذمہ داری صرف مسائل کے ظاہری احکام بیان کرنا نہیں، بلکہ حکمت، بصیرت اور خیرخواہی کے ساتھ لوگوں کو ایسے راستے کی طرف رہنمائی کرنا بھی ہے جس میں شریعت کی پابندی کے ساتھ ظلم و زیادتی سے بچنے اور نزاعات کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کی کوشش ہو۔

یاد رکھیے! شریعت کا مقصد لوگوں کو تنگی میں ڈالنا نہیں، بلکہ عدل قائم کرنا، حقوق کی حفاظت کرنا اور ظلم کا راستہ بند کرنا ہے۔ خلع کے معاملات میں بھی دونوں فریقوں کے حقوق اور شرعی حدود کو سامنے رکھ کر حل تلاش کرنا چاہیے۔ اگر شوہر کی طرف سے زیادتی ہو تو اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، اور اگر عورت کی طرف سے غلطی ہو تو اس کا مطلب بھی یہ نہیں کہ اس کے اہلِ خانہ کو ان کی استطاعت سے بڑھ کر مالی مطالبات کے بوجھ تلے دبا دیا جائے۔

خدارا! ایسے معاملات کو ضد، ہٹ دھرمی اور مالی مطالبات کا مسئلہ بنانے کے بجائے باہمی رضامندی، انصاف اور شرعی رہنمائی کے ذریعے آسان بنائیے۔ علمائے کرام کو چاہیے کہ وہ مظلوم کی داد رسی کریں، ظالم کو ظلم سے روکیں اور دونوں خاندانوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق معاملہ حل کرنے کی ترغیب دیں۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو حق سمجھنے، اس پر عمل کرنے، دوسروں کی مجبوریوں کو محسوس کرنے اور کسی پر ظلم نہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
واللہ اعلم بالصواب کتبہ ابو احمد محمد رضا نوری قادری حنفی ایم جے اکبری دارالافتاء گلزار طیبہ تحقیق سینٹر

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ  سوال کیا فرماتے ہیں مفتیان اعظم مسلہ ذیل میں ہندستان کے کفار سے سود لینا کیسا اور ہندوستان کی بینکوں سے ملنے والا سود کا کیا حکم ہے اور کیا ہندوستان کے کفار حربی ہے ان سوالات کا جواب عنایت فرمائیں سایل محمد علی سانوا باڑمیر راجستھان  وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ الجواب وباللہ توفیق  تحقیق یہ ہے کہ ہندوستان کے کفار سے بھی سودی معاملات جایز نہیں اور ہندوستان کی بینکوں سے ملنے والا سود بھی حرام ہے اس رقم کو بغیر نیت ثواب کے  کسی غریب کو دے دیں اب آے اس مسلے پر تفصیلی گفتگو کرتے ہیں  دارالحرب کے سود میں جمہور فقہا کا نظریہ علامہ ابن قدامہ حنمبلی فرماتےہے دارالحرب میں سود اسی طرح حرام ہے جس طرح دارال اسلام میں سود حرام ہے امام احمد امام مالک امام اوزاعی امام ابو یسف امام شافعی اور اسحاق کا بھی یہی مزہب ہے امام ابو حنیفہ نے کہا کہ مسلمان اور حربی کے درمیان دارالحرب میں ربا جاری نہیں ہوگا اور ان سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ دو شخص دارالحرب میں مسلمان ہو گئے توان کے درمیان ربا (سود) نہیں ہوگا اور ان کے اموال مباح ہیں علامہ غلام رسول س...

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا حنفی دارالافتا۶ - 01/03/2025  کیا فرماتے ہے مفیان کرام کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کا اثر ہوا تھا اور ہوا تھا تو اس پر صحیح حدیث موجود ہے اور دوسرا سوال یہ ہے کہ صحیح بخاری کی اس حدیث کا کیا جواب ہے جس میں ہے کہ وحی رک گئی تو آپ نے اپنے آپ کو پہاڈ سے گرانا چاہا جواب عنائت فرمائے سائل محمد علی کچھ گجرات  الجواب و باللہ توفیق کسی بھی مسئلے میں قائدہ یہ ہے کہ اس کو قرآن کے سامنے پیش کریں گے اگر قرآن کے خلاف ہے تو اگرچہ حدیث صحیح ہو اس کو قبول نہیں کیا جائے گا آپ پر جادو کا اثر ہوا تھا اس پر جمہور مفسرین نے یہ ہی لکھا ہے تبیان القرآن جلد۔ اول صفہ ۱۰۴۸میں ہے  امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606  ھ لکھتے ہیں :- جمہور مفسرین نے یہ کہا ہے کہ لبیدبن اعصم یہودی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر گایرہ گرہوں میں جادو کیا تھا اور اس دھاگے کو ذروان نامی کنوئیں کی تہہ میں ایک پتھر کے نیچے دبا دیا تھا، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار ہوگئے اور تین دن آپ پر سخت گزرے، پھر اس وجہ سے معوذتین نازل ہوئیں اور حضرت جبریل نے آ کر آپ کو ...