دارالافتاء گلزار طیبہ تحقیق سینٹر
سوال:
کچھ مسلمان شرعاً مالکِ نصاب ہوتے ہیں، مگر بیماری اور علاج کے اخراجات میں کافی رقم خرچ ہوجاتی ہے۔ کیا ایسے لوگوں کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں؟ اور اگر زکوٰۃ کا حیلۂ شرعی کیا جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟
الجواب وباللّٰہ توفیق
اگر کوئی مسلمان شرعاً مالکِ نصاب ہے تو محض بیمار ہونے یا علاج کے اخراجات زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ زکوٰۃ کا مستحق نہیں ہوجاتا۔ جب تک اس کے پاس حاجتِ اصلیہ سے زائد نصاب کے بقدر مال موجود ہے، اسے زکوٰۃ دینا جائز نہیں۔
البتہ اگر علاج کے ضروری اخراجات اور حاجاتِ اصلیہ کے بعد اس کے پاس نصاب کے بقدر زائد مال باقی نہ رہے تو وہ شرعاً مستحقِ زکوٰۃ ہوسکتا ہے اور اسے زکوٰۃ دی جاسکتی ہے۔
حیلۂ شرعی کے متعلق:
حیلۂ شرعی ہر جگہ کرنا درست نہیں اور اسے زکوٰۃ سے بچنے یا غیر مستحق کو زکوٰۃ پہنچانے کا معمول نہیں بنانا چاہیے۔ صرف حقیقی سخت مجبوری اور شرعی ضرورت کی صورت میں معتبر علما کی رہنمائی سے جائز شرعی طریقہ اختیار کیا جاسکتا ہے۔ زکوٰۃ میں اصل تملیکِ مستحق ہے۔
لہٰذا جو بیمار شخص مالکِ نصاب ہونے کی وجہ سے زکوٰۃ کا مستحق نہیں، مسلمانوں کو چاہیے کہ اس کی مدد صدقۂ نافلہ، ہدیہ اور دیگر جائز مالی تعاون سے کریں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ
ترجمہ: جو شخص کسی مسلمان کی دنیا کی کوئی پریشانی دور کرے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی ایک پریشانی دور فرمائے گا۔
(صحیح مسلم، حدیث: 2699)
لہٰذا جہاں زکوٰۃ کا استحقاق نہ ہو وہاں حیلہ تلاش کرنے کے بجائے صدقۂ نافلہ کے ذریعے مریض کی مدد کرنا چاہیے
ابو احمد محمد رضا نوری قادری حنفی
تحقیق: دارالافتاء گلزار طیبہ تحقیق سینٹر
شعار: تحقیق ہمارا شعار — حق بات، بے باک انداز
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com