مفتی صاحب کی بارگاہ میں سوال عرض ہے کہ حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اس کا مطلب کیا ہے جواب عنایت فرمائیں سایل محمد علی جمیلانی سانوا باڑمیر
الجواب وباللہ توفیق
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
بے شک حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے، اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ (شک والی) چیزیں ہیں جنہیں بہت سے لوگ نہیں جانتے۔ پس جس شخص نے شبہات سے پرہیز کیا، اس نے اپنے دین اور اپنی عزت کو محفوظ کر لیا، اور جو شخص شبہات میں پڑ گیا، وہ حرام میں مبتلا ہو گیا۔ اس کی مثال اس چرواہے جیسی ہے جو (شاہی) چراگاہ کے ارد گرد اپنے جانور چرائے، تو بہت ممکن ہے کہ وہ اس کے اندر چرنے لگیں۔ سن لو! ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہوتی ہے اور اللہ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ حدود ہیں۔ خبردار! جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے، جب وہ ٹھیک ہو جائے تو پورا جسم ٹھیک رہتا ہے اور جب وہ خراب ہو جائے تو پورا جسم خراب ہو جاتا ہے، سن لو! وہ دل ہے۔“(صحیح البخاری: 52، صحیح مسلم: 1599)
یہاں حدیثِ پاک ”إِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ وَإِنَّ الْحَرَامَ بَيِّنٌ“ (حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی...) کی علمی اور فقہی شروحات کے تناظر میں ایک جامع اور مفصل مضمون پیشِ خدمت ہے:
------------------------------
## حدیثِ ”حلال و حرام“ اور دینِ اسلام میں اس کی اہمیت## (ایک تفصیلی اور فکری مطالعہ)## تمہید اور حدیث کا مقام
دینِ اسلام کے احکام اور انسانی زندگی کے رہن سہن کی بنیاد جن اہم ترین احادیث پر ہے، ان میں حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی یہ حدیثِ مبارکہ سرفہرست ہے۔ امام بخاری اور امام مسلم دونوں نے اسے روایت کیا ہے۔ ائمہ دین اور شارحینِ حدیث کے اقوال کے مطابق یہ حدیث اسلام کے مدار (بنیادوں) میں سے ایک ہے۔ بعض علماء کے نزدیک پورا دین چار بنیادی احادیث کے گرد گھومتا ہے، اور یہ حدیث ان میں سب سے پہلی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ حدیث انسان کو عقیدے، عبادات، معاملات اور اخلاقیات، ہر شعبے میں حلال و حرام کا فرق اور زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھاتی ہے۔
------------------------------
## احکامِ شرعیہ کی تین اقسام
اس حدیثِ پاک کی روشنی میں کائنات کی تمام اشیاء اور انسانی افعال کو حکمِ شرعی کے اعتبار سے تین بنیادی حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے:
## 1۔ الحلالُ بَيِّن (واضح حلال)
یہ وہ امور اور اشیاء ہیں جن کے جائز اور پاکیزہ ہونے پر قرآن کریم، سنتِ نبوی اور اجماعِ امت کی قطعی اور صریح دلائل موجود ہیں۔ ان میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں پایا جاتا۔
* مثالیں: پاکیزہ غذائیں (جیسے پھل، سبزیاں، حلال جانوروں کا گوشت)، جائز نکاح، سچ بولنا، اور باہمی رضامندی سے کی جانے والی دیانتدارانہ تجارت۔
* حکم: یہ عام و خاص سب کے لیے واضح ہے اور اس کا استعمال سراسر جائز اور باعثِ ثواب ہے۔
## 2۔ الحرامُ بَيِّن (واضح حرام)
یہ وہ کام اور اشیاء ہیں جن کی ممانعت، خباثت اور حرمت پر شریعت کے احکامات بالکل صاف اور واضح ہیں۔ کوئی بھی ذی شعور انسان ان کی حرمت سے بے خبر نہیں ہوتا۔
* مثالیں: سود (ربا)، چوری، زنا، شراب نوشی، جھوٹ، ظلم، اور خنزیر کا گوشت۔
* حکم: ان سے بچنا ہر مسلمان پر فرضِ عین ہے اور ان کا ارتکاب سخت گناہ اور عذاب کا باعث ہے۔
## 3۔ المُشْتَبِهَات (شک و شبہ والے امور) علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں المُشْتَبِهَات کا لفظ ہے یہ وہ چیز ہے جو ایک جہت سے حلال ہو اور دوسری جہت سے حرام ہو جیسے کسی رشوت خور کے گھر کا کھانا اگر اس کی تنخواہ کی آمدنی سے پکا ہو تو حلال ہے اور اگر رشوت کی آمدنی سے پکا ہو تو حرام ہے (نعمت الباری شرح صحیح البخاری جلد اؤل صفحہ 287)
حدیثِ پاک کا اصل مغز یہ تیسرا حصہ ہے، یعنی وہ امور جن کے حلال یا حرام ہونے کے دلائل میں بظاہر تعارض (ٹکراؤ) پایا جائے، یا جن کی حقیقت عام لوگوں پر واضح نہ ہو۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو نہ تو صریح حلال کے دائرے میں آتی ہیں اور نہ ہی صریح حرام کے، بلکہ دونوں کے درمیان معلق ہوتی ہیں۔
------------------------------
## ”لا یعلمھن کثیر من الناس“ کی علمی تشریح
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ان مشتبہ امور کو ”بہت سے لوگ نہیں جانتے“۔ اس جملے کی گہری علمی تشریح یہ ہے:
نبی کریم ﷺ کا یہ فرمانا کہ ”بہت سے لوگ نہیں جانتے“ اس بات کی صریح دلیل ہے کہ امت میں کچھ لوگ ایسے ضرور ہیں جو ان مشتبہ چیزوں کے احکام کو گہرائی سے جانتے ہیں، اور وہ امت کے علماءِ راسخین اور مجتہدین ہیں۔
عام لوگ چونکہ اصولِ فقہ، قیاس اور دلائل سے نتیجہ نکالنے کی علمی صلاحیت نہیں رکھتے، اس لیے وہ ان معاملات میں الجھن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جبکہ ماہر فقہاء اپنی علمی بصیرت سے ان مشتبہ امور کی باریکیوں کو جانچتے ہیں اور انہیں شریعت کے بنیادی اصولوں کے تحت لا کر ان کا شرعی حکم واضح کر دیتے ہیں۔
------------------------------
شبہات سے بچنے کے فوائد (دین اور عزت کی حفاظت)
حدیث میں مذکور ہے کہ جس نے شبہات سے پرہیز کیا، اس نے اپنے دین اور اپنی عزت کو محفوظ کر لیا۔ اس کی وضاحت یوں ہے:
* دین کی حفاظت: جو شخص شک والی چیزوں سے دور رہتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور گناہوں کی دلدل میں گرنے سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ اس کا نامہ اعمال داغدار ہونے سے بچ جاتا ہے۔
* عزت کی حفاظت: جو شخص معاشرے میں مشتبہ کاموں سے دور رہتا ہے، وہ لوگوں کے طعنوں، بدگمانیوں اور غیبت سے بچ جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص ایسی جگہوں پر جائے یا ایسے معاہدے کرے جو بظاہر مشتبہ ہوں، تو لوگ اس پر انگلی اٹھائیں گے، خواہ وہ دل میں سچا ہی کیوں نہ ہو۔ لہٰذا تقویٰ کا تقاضا ہے کہ اپنی عزت پر حرف نہ آنے دیا جائے۔
------------------------------
شاہی چراگاہ کی تمثیل اور اس کا فقہی نکتہ
نبی کریم ﷺ نے بات کو سمجھانے کے لیے ایک بہترین سماجی مثال دی کہ: ”جیسے کوئی چرواہا کسی ممنوعہ چراگاہ کے ارد گرد اپنے جانور چرائے، تو بہت ممکن ہے کہ کوئی جانور اس چراگاہ کے اندر گھس جائے۔“
اس تمثیل سے فقہاء نے ”سدِ ذرائع“ (گناہ تک پہنچانے والے راستوں کو بند کرنے) کا اصول اخذ کیا ہے۔ ہر بادشاہ کی ایک مخصوص چراگاہ ہوتی ہے جہاں عام لوگوں کا داخلہ بند ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی چراگاہ اس کی مقرر کردہ حدود اور حرام کردہ چیزیں ہیں۔ جو انسان بالکل حرام کے کنارے یعنی ”مشتبہات“ پر کھڑا رہتا ہے اور سوچتا ہے کہ ”یہ حرام تو نہیں ہے، صرف شک ہی ہے نا“، تو وہ دراصل گناہ کے بارڈر پر گھوم رہا ہوتا ہے۔ نفس اور شیطان کسی بھی وقت اسے اس بارڈر سے پار دھکیل کر صریح حرام میں مبتلا کر سکتے ہیں۔ اس لیے شریعت کا اصول یہ ہے کہ حرام سے بچنے کے لیے مشتبہ چیزوں سے بھی دور رہا جائے۔
------------------------------
دل کی اصلاح: انسانی اعمال کا مرکز
حدیث کے آخر میں دل کا ذکر کرتے ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا کہ جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے، اگر وہ ٹھیک ہو جائے تو پورا جسم ٹھیک رہتا ہے اور اگر وہ خراب ہو جائے تو پورا جسم خراب ہو جاتا ہے، اور وہ ”دل“ ہے۔
اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے ظاهری اعضاء (آنکھ، زبان، ہاتھ، پاؤں) دراصل دل کے تابع ہیں۔ دل انسان کے وجود کا حکمران ہے۔
* اگر دل کے اندر خوفِ خدا، ایمان کی حلاوت، حلال کی تڑپ اور حرام سے نفرت ہوگی، تو ہاتھ کبھی حرام کی طرف نہیں بڑھے گا، آنکھ کبھی حرام نہیں دیکھے گی، اور زبان کبھی جھوٹ نہیں بولے گی۔
* اگر دل ہی دنیا کی محبت، لالچ، اور حرام خواہشات کا مسکن بن جائے، تو انسان بظاہر جتنا بھی متقی بننے کی کوشش کرے، اس کے اعضاء صریح گناہوں کی طرف راغب ہو جائیں گے۔ دل کی صفائی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ انسان اپنے پیٹ میں جانے والے لقمے کو حلال رکھے، کیونکہ حرام لقمہ دل کو روحانی طور پر بیمار کر دیتا ہے۔
------------------------------
حاصلِ کلام (نتیجہ)
اس تفصیلی تشریح کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ حدیثِ مبارکہ ایک مسلمان کو زندگی گزارنے کا ایک مکمل ضابطہ دیتی ہے۔ موجودہ دور کے پیچیدہ مالیاتی معاملات، بنکنگ، ڈیجیٹل کاروبار اور جدید تجارتی معاہدوں میں جہاں عام انسان الجھن کا شکار ہو جاتا ہے، وہاں اس حدیث کا یہ اصول مشعلِ راہ ہے کہ جس چیز کے جائز ہونے پر دل مطمئن نہ ہو اور شواہد مشکوک ہوں، اس سے بچ جانا ہی دین اور دنیا کی عافیت کا ضامن ہے۔ اصل *تقویٰ صرف واضح حرام کو چھوڑنا نہیں، بلکہ حرام کے خوف سے مشتبہ چیزوں کو بھی قربان کر دینا ہے----------------------* یہ جواب ہم نے عوام کی سمجھ کے مطابق لکھا ہے تاکہ مضمون طویل نہ ہو جائے ورنہ لوگ بڑھنے میں اکتا جاتے ہیں علمی جواب اگر لکھو تو ایک کتاب بن جائے گی اہل علم تفصیلات جانتے کے لیے شرح صحیح مسلم جلد چہارم صفحہ 409 سے 415 کا مطالعہ فرمائیں
واللہ اعلم بالصواب کتبہ ابو احمد محمد رضا نوری قادری حنفی دارالافتاء گلزار طیبہ تحقیق سینٹر
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com