السلام علیکم حضرت صاحب
۱۰۰٪ یقین ہے کہ نہ منی ہے، نہ مذی، نہ کوئی خواب دیکھا، نہ کوئی احتلام لکین چکنا پانی کپڑے پر دیکھا تو کیا ان صورتوں میں بھی غسل واجب ہوگا؟
ابراہیم خان، راجستھان، انڈیا
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب وباللہ توفیق
صورتِ مسئولہ میں دریافت کردہ مسئلے کا حکم یہ ہے کہ اگر کسی شخص کو اپنے کپڑے پر چکنا پانی نظر آئے اور اسے سو فیصد یقین ہو کہ یہ منی نہیں، مذی نہیں، نہ اسے احتلام ہوا ہے، تو محض ایسی رطوبت دیکھنے سے غسل فرض نہیں ہوگا۔
البتہ اگر وہ رطوبت پیشاب کے راستے سے خارج ہوئی ہے تو وضو ٹوٹ جائے گا، اور اگر وہ مذی یا ودی ہے تو وہ ناپاک ہے، لہٰذا کپڑے پر جہاں لگی ہو اسے پاک کرنا ضروری ہے۔
بہارِ شریعت میں ہے:
”پاخانہ، پیشاب، وَدِی، مَذِی، مَنی، کیڑا، پتھری مرد یا عورت کے آگے یا پیچھے سے نکلیں وُضو جاتا رہے گا۔“
(بہارِ شریعت، جلد 1، صفحہ 303، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
مزید مذی اور ودی کی نجاست کے متعلق بہارِ شریعت میں ہے:
”انسان کے بدن سے جو ایسی چیز نکلے کہ اس سے غُسل یا وُضو واجب ہو نجاستِ غلیظہ ہے، جیسے پاخانہ، پیشاب، بہتا خون، پیپ، بھر مونھ قے، حَیض و نِفاس و اِستحاضہ کا خون، مَنی، مَذی، وَدی۔“
(بہارِ شریعت، جلد 1، صفحہ 390، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
خلاصۂ فتویٰ:
* محض چکنا پانی دیکھنے سے غسل فرض نہیں ہوتا۔
* اگر مذی یا ودی ہو تو غسل فرض نہیں، البتہ وضو ٹوٹ جائے گا۔
* مذی یا ودی کپڑے پر لگ جائے تو اس جگہ کو پاک کرنا ضروری ہے۔
* جب منی ہونے کا یقین نہیں اور احتلام بھی نہیں ہوا تو محض شک کی بنیاد پر غسل فرض قرار نہیں دیا جائے گا۔
لہٰذا مسئولہ صورت میں غسل واجب نہیں، البتہ رطوبت کے خارج ہونے کی صورت میں وضو اور کپڑے کی طہارت کا حکم اس کی نوعیت کے مطابق ہوگا۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
مفتی ابو احمد محمد رضا نوری قادری حنفی (مشہور بہ نام ایم۔ جے۔ اکبری) دارالافتاء گلزار طیبہ تحقیق سینٹر
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com