نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اذان غلط دے تو

فتویٰ: اذان غلط پڑھنے سے کفر لازم آتا ہے؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے میں کہ اذان غلط پڑھنے میں سترہ (17) کلماتِ کفریہ ہیں؟ اگر ہیں تو وہ کفرِ لزومی ہے یا کفرِ التزامی؟ نیز اذان کے الفاظ غلط پڑھنے والے کا شرعی حکم کیا ہے؟

المستفتی: ابراہیم خان، راجستھان، انڈیا

الجواب بعون الملک الوہاب

اذان اسلام کا ایک عظیم شعار ہے، اس کے کلمات کو صحیح تلفظ اور درست ادائیگی کے ساتھ ادا کرنا ضروری ہے۔ اذان کے الفاظ میں ایسی غلطی کرنا جس سے معنی بدل جائیں، شرعاً ناجائز ہے، اور بعض صورتوں میں اذان بھی درست نہیں ہوتی۔

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں:

”کلماتِ اذان میں لحنِ جلی حرام ہے، مثلاً اللہ یا اکبر کے ہمزہ کو مد کے ساتھ آللہ یا آکبر پڑھنا، یونہی اکبر میں بے کے بعد الف بڑھانا حرام ہے۔“

(بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 468، مکتبۃ المدینہ)

سترہ کلماتِ کفریہ کی تحقیق

اذان میں غلط پڑھنے کی وجہ سے سترہ (17) کلماتِ کفریہ ہونے کی بات کسی مستند شرعی دلیل سے ہمارے سامنے ثابت نہیں۔ اس لیے بلا تحقیق اس بات کو بیان کرنا درست نہیں۔

نیز یہ بات واضح رہے کہ فقہِ حنفی کے مطابق عام اذان کے پندرہ کلمات ہیں، جبکہ فجر کی اذان میں دو مرتبہ اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْم کہنے کی وجہ سے سترہ کلمات ہو جاتے ہیں۔ اقامت کے بھی سترہ کلمات ہیں۔

(الفتاویٰ الہندیہ، جلد 1، صفحہ 55) Banuri +1

کفرِ لزومی اور کفرِ التزامی کا حکم

کسی لفظ یا جملے کو کفر قرار دینے کے لیے اس کے معنی اور شرعی دلالت کی تحقیق ضروری ہے۔ محض تلفظ کی غلطی یا زبان کی لغزش سے کسی مسلمان پر کفر کا حکم نہیں لگایا جاسکتا۔ اسی طرح کفرِ لزومی اور کفرِ التزامی کی اصطلاحات کا اطلاق بھی بغیر تحقیق نہیں کیا جاسکتا۔

لہٰذا اذان میں غلط تلفظ کرنے والے کو چاہیے کہ کسی ماہر قاری یا عالم سے اذان کے الفاظ درست کرے۔ اگر غلطی ایسی ہو جس سے اذان فاسد ہوجائے تو اس کا شرعی حکم الگ ہوگا۔

خلاصۂ جواب: اذان غلط پڑھنے میں سترہ کلماتِ کفریہ ہونے کا دعویٰ ثابت نہیں۔ ہر غلطی کفر نہیں ہوتی، بلکہ اس کی نوعیت اور معنی کے اعتبار سے حکم مختلف ہوگا۔ اگر کسی خاص لفظ کو کلمۂ کفر کہا جاتا ہے تو اس کی عبارت پیش کیے بغیر اسے کفرِ لزومی یا کفرِ التزامی قرار دینا درست نہیں۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

مفتی ابو احمد محمد رضا نوری قادری حنفی

دارالافتاء گلزار طیبہ تحقیق سینٹر

نوٹ: اگر آپ کے پاس ان سترہ کلمات کی کوئی کتابی عبارت یا فہرست موجود ہو تو اسے پیش کیا جائے، تاکہ ہر کلمے کی الگ الگ تحقیق کی جاسکے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ  سوال کیا فرماتے ہیں مفتیان اعظم مسلہ ذیل میں ہندستان کے کفار سے سود لینا کیسا اور ہندوستان کی بینکوں سے ملنے والا سود کا کیا حکم ہے اور کیا ہندوستان کے کفار حربی ہے ان سوالات کا جواب عنایت فرمائیں سایل محمد علی سانوا باڑمیر راجستھان  وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ الجواب وباللہ توفیق  تحقیق یہ ہے کہ ہندوستان کے کفار سے بھی سودی معاملات جایز نہیں اور ہندوستان کی بینکوں سے ملنے والا سود بھی حرام ہے اس رقم کو بغیر نیت ثواب کے  کسی غریب کو دے دیں اب آے اس مسلے پر تفصیلی گفتگو کرتے ہیں  دارالحرب کے سود میں جمہور فقہا کا نظریہ علامہ ابن قدامہ حنمبلی فرماتےہے دارالحرب میں سود اسی طرح حرام ہے جس طرح دارال اسلام میں سود حرام ہے امام احمد امام مالک امام اوزاعی امام ابو یسف امام شافعی اور اسحاق کا بھی یہی مزہب ہے امام ابو حنیفہ نے کہا کہ مسلمان اور حربی کے درمیان دارالحرب میں ربا جاری نہیں ہوگا اور ان سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ دو شخص دارالحرب میں مسلمان ہو گئے توان کے درمیان ربا (سود) نہیں ہوگا اور ان کے اموال مباح ہیں علامہ غلام رسول س...

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا حنفی دارالافتا۶ - 01/03/2025  کیا فرماتے ہے مفیان کرام کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کا اثر ہوا تھا اور ہوا تھا تو اس پر صحیح حدیث موجود ہے اور دوسرا سوال یہ ہے کہ صحیح بخاری کی اس حدیث کا کیا جواب ہے جس میں ہے کہ وحی رک گئی تو آپ نے اپنے آپ کو پہاڈ سے گرانا چاہا جواب عنائت فرمائے سائل محمد علی کچھ گجرات  الجواب و باللہ توفیق کسی بھی مسئلے میں قائدہ یہ ہے کہ اس کو قرآن کے سامنے پیش کریں گے اگر قرآن کے خلاف ہے تو اگرچہ حدیث صحیح ہو اس کو قبول نہیں کیا جائے گا آپ پر جادو کا اثر ہوا تھا اس پر جمہور مفسرین نے یہ ہی لکھا ہے تبیان القرآن جلد۔ اول صفہ ۱۰۴۸میں ہے  امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606  ھ لکھتے ہیں :- جمہور مفسرین نے یہ کہا ہے کہ لبیدبن اعصم یہودی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر گایرہ گرہوں میں جادو کیا تھا اور اس دھاگے کو ذروان نامی کنوئیں کی تہہ میں ایک پتھر کے نیچے دبا دیا تھا، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار ہوگئے اور تین دن آپ پر سخت گزرے، پھر اس وجہ سے معوذتین نازل ہوئیں اور حضرت جبریل نے آ کر آپ کو ...