*(کیا امام حسن نے حضرت امیر معاویہ سے بیعت نہیں کی تھی؟ سنابل ڈھولکی کے دعوے کا علمی محاسبہ)*
سنابل ڈھولکی نے بڑے طمطراق کے ساتھ یہ دعویٰ کیا ہے کہ دنیا کی دھرتی پر کوئی ملا پیدا نہیں ہوا جو یہ ثابت کر سکے کہ امام حسن رضی اللہ عنہ نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے بیعت کی ہو۔ سنابل ڈھولکی کے اس دعوے سے اس کی علمی لیاقت خوب اچھی طرح ظاہر ہو جاتی ہے۔ سنابل ڈھولکی نےحدیث کی کتابوں سے کبھی سنجیدہ تعلق قائم کیا ہوتا تو اتنے بڑے دعوے سے پہلے چند بنیادی کتب کا مطالعہ ضرور فرما لیتا۔ قارئین کی خدمت میں ہم چند روایات پیش کر رہے ہیں، ملاحظہ فرمائیں:
1۔ امام ابن سعد رحمہ اللہ طبقات الکبریٰ میں روایت کرتے ہیں:
أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: سَمِعْتُ هِلَالَ بْنَ خَبَّابٍ يَقُولُ: جَمَعَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رُؤُوسَ أَصْحَابِهِ فِي قَصْرِ الْمَدَائِنِ، فَقَالَ: يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ، لَوْ لَمْ تَذْهَلْ نَفْسِي عَنْكُمْ إِلَّا لِثَلَاثِ خِصَالٍ لَذَهَلْتُ: مَقْتَلِكُمْ أَبِي، وَمَطْعَنِكُمْ بِغَلَتِي، وَانْتِهَابِكُمْ ثَقَلِي أَوْ قَالَ: رِدَائِي عَنْ عَاتِقِي وَإِنَّكُمْ قَدْ بَايَعْتُمُونِي أَنْ تُسَالِمُوا مَنْ سَالَمْتُ، وَتُحَارِبُوا مَنْ حَارَبْتُ، وَإِنِّي قَدْ بَايَعْتُ مُعَاوِيَةَ فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا۔
ترجمہ: امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے مدائن کے محل میں اپنے ساتھیوں کے سرکردہ لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا: اے اہلِ عراق! تمہاری تین حرکتیں ہی میرے لیے تم سے دل برداشتہ ہونے کو کافی تھیں۔ وہ تین باتیں یہ ہیں: تمہارا میرے والد کو قتل کرنا، میری سواری خچر کو نیزہ مارنا، اور تمہارا میرا سامان لوٹ لینا، یا راوی کے الفاظ کے مطابق میری چادر میرے کندھے سے کھینچ لینا۔ اور تم نے مجھ سے اس بات پر بیعت کی تھی کہ جس کے ساتھ میں صلح کروں گا تم بھی اس کے ساتھ صلح کرو گے، اور جس کے ساتھ میں جنگ کروں گا تم بھی اس کے ساتھ جنگ کرو گے۔ لیکن اب میں نے معاویہ رضی اللہ عنہ سے بیعت کر لی ہے، لہٰذا تم ان کی بات سنو اور ان کی اطاعت کرو۔
(طبقات الکبریٰ، جلد 6، صفحہ 382)
2۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں:
قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ أَنَسٍ، يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ، قَالَ: قَالَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ يَوْمَ كَلَّمَ مُعَاوِيَةَ مَا بَيْنَ جَابِرْسَ وَجَابِلْقَ: رَجُلٌ جَدُّهُ نَبِيٌّ غَيْرِي، وَإِنِّي رَأَيْتُ أَنْ أُصْلِحَ بَيْنَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكُنْتُ أَحَقَّهُمْ بِذَاكَ، أَلَا إِنَّا قَدْ بَايَعْنَا مُعَاوِيَةَ، وَلَا أَدْرِي لَعَلَّهُ فِتْنَةٌ لَكُمْ وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ۔
ترجمہ: انس بن سیرین بیان کرتے ہیں کہ امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے اس دن جب معاویہ رضی اللہ عنہ سے گفتگو کی، جابرس اور جابلق کے درمیان فرمایا: میرے علاوہ کوئی ایسا شخص نہیں جس کے دادا نبی ہوں۔ اور میں نے مناسب سمجھا کہ امت محمدیہ کے درمیان صلح کرا دوں، حالانکہ اس کام کا سب سے زیادہ حق دار میں تھا۔ خبردار! ہم نے معاویہ سے بیعت کر لی ہے، اور میں نہیں جانتا، شاید یہ تمہارے لیے ایک آزمائش اور ایک مقررہ مدت تک فائدہ اٹھانے کا سامان ہو۔
(فضائل الصحابہ، روایت نمبر 1355)
3۔ امام حاکم رحمہ اللہ مستدرک میں طویل روایت لائے ہیں جس میں یہ کلمات ہیں:
فَصَالَحَ الْحَسَنُ مُعَاوِيَةَ وَسَلَّمَ الْأَمْرَ لَهُ وَبَايَعَهُ بِالْخِلَافَةِ۔
ترجمہ: پس امام حسن رضی اللہ عنہ نے معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کی، حکومت ان کے سپرد کر دی اور ان کی خلافت پر بیعت کر لی۔
(المستدرک للحاکم، روایت نمبر 4808)
یہ روایات روزِ روشن کی طرح ظاہر کرتی ہیں کہ امام حسن رضی اللہ عنہ نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے بیعت کی تھی۔ مگر سنابل ڈھولکی کو ڈھول بجانے سے فرصت ملتی تب ان روایات کا مشاہدہ کرتا،
سنابل ڈھولکی جیسے لوگ امام حسن رضی اللہ عنہ کے زمانے میں بھی موجود تھے جو اس بات پر ناخوش تھے کہ امام حسن رضی اللہ عنہ نے آخر امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح اور بیعت کیوں کر لی؟ چنانچہ وہ امام حسن رضی اللہ عنہ پر طنز کرنے لگے۔
آج بھی اسی ذہنیت کے لوگ موجود ہیں۔ انہیں اس بات سے تکلیف ہوتی ہے کہ امام حسن رضی اللہ عنہ نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے بیعت کیوں کی، چنانچہ کبھی بیعت کا انکار کرتے ہیں اور کبھی اس واقعے کی تاویلیں پیش کرتے نظر آتے ہیں۔
4۔ امام ترمذی رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں: قَامَ رَجُلٌ إِلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، بَعْدَ مَا بَايَعَ مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ: سَوَّدْتَ وُجُوهَ الْمُؤْمِنِينَ۔
ترجمہ: ایک شخص امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، اس وقت جب آپ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے بیعت کر چکے تھے۔ اس نے کہا: آپ نے مسلمانوں کے چہروں کو سیاہ کر دیا
(جامع الترمذی، حدیث نمبر 3350)
اب سنابل ڈھولکی سے چند سوالات
کیا امام ابن سعد رحمہ اللہ کو تاریخ کا علم نہیں تھا؟
کیا امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فضائل الصحابہ میں یہ روایت بلاوجہ نقل کی؟
کیا امام حاکم رحمہ اللہ نے المستدرک میں امام حسن رضی اللہ عنہ کی بیعت کا ذکر نہیں کیا؟
اور کیا یہ تمام عبارات تمہارے اس دعوے کے سامنے موجود نہیں کہ دنیا میں کوئی ملا امام حسن رضی اللہ عنہ کی بیعت ثابت نہیں کر سکتا؟
سنابل ڈھولکی نے تو پوری دنیا کے علماء کو چیلنج دے دیا تھا، مگر افسوس کہ ڈھولکی کے اس دعوے کا جواب دینے کے لیے ہمیں زیادہ دور جانے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی، چند معروف ائمہ محدثین کی کتابیں کھولیں اور سنابل ڈھولکی کا دعویٰ اپنی جگہ خود ہی زمین بوس ہو گیا۔
ایک بات اچھی طرح سمجھ لیں
امام حسن رضی اللہ عنہ نے امت کے اتحاد اور مسلمانوں کے خون کو محفوظ رکھنے کے لیے جو عظیم قدم اٹھایا، اسے تاریخ میں صلحِ حسن کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس عظیم واقعے کو تسلیم کرنے کے لیے کسی ڈھولکی کی اجازت یا توثیق درکار نہیں۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی عظمت اور ائمہ محدثین کا احترام کرنا سیکے منبر پر کھڑے ہو کر علماء کو چیلنج کرنا، ان کی تحقیر کرنا اور پھر اپنے محدود مطالعے کو پوری دنیا کے علم کا معیار بنا لینا کوئی علمی کمال نہیں۔
آخر میں سنابل ڈھولکی یہ سمجھ لے کہ آئندہ دنیا بھر کے علماء کو چیلنج دینے سے پہلے اپنی ڈھولکی ایک طرف رکھ کر کم از کم ان بنیادی کتابوں کا مطالعہ ضرور کر لینا ۔ چونکہ سنابل ڈھولکی
کہ ڈھول کی آواز تو بہت بلند ہے مگر علمی میدان میں سنابل ڈھولکی علم سے کورا ہے جاہل ناآشنا ہے
سنابل ڈھولکی تیرا کام ہے ڈھول بجانا یہ خطاب کرنا نہیں اس کے لیے علم چاہیے، تو شادی بیاہ میں اپنے ٹولے کے ساتھ ڈھول بجا اور جس طرح تو منبر پر اچھل کود کرتا ہے یہ اچھل کود وہیں شادی بیاہ میں کر ڈھول کے اوپر اور لوگوں کا منورنجن کر
گداۓ صحابہ و اہل بیت
از فقیر دانش حنفی
ہلدوانی نینی تال
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com