نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

مالی جرمانہ اور بایکاٹ

الجواب وبالله التوفيق

صورتِ مسئولہ میں مالی جرمانہ منسوخ ہے، اور منسوخ پر عمل کرنا ناجائز ہے۔ اسلام میں مالی جرمانہ جائز نہیں۔ چنانچہ بحر الرائق شرح کنز الدقائق میں ہے:

«التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام، ثم نسخ»

ترجمہ: مالی جرمانہ اسلام کے ابتدائی دور میں تھا، پھر منسوخ ہوگیا۔

(بحر الرائق شرح كنز الدقائق، ج 5، ص 68، مطبوعہ دار الكتب العلمية، بیروت)

اسی طرح تین طلاق کے بعد عورت کو بیوی کی حیثیت سے اپنے پاس رکھنے کے متعلق حضرت فقہِ ملت مفتی جلال الدین امجدی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

"مدخولہ عورت کو تین طلاق دے کر پھر بغیر شرعی نکاحِ ثانی کے اس سے بیوی جیسا تعلق رکھنا سخت ناجائز و حرام ہے۔ زید پر لازم ہے کہ اس عورت کو اپنے سے دور کر دے اور خود اس سے دور رہے۔ اگر تین طلاق کے بعد اس سے بیوی جیسا تعلق رکھتا ہو تو اسے توبہ و استغفار کرنا چاہیے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو مسلمانوں کو چاہیے کہ اصلاح و تنبیہ کی غرض سے اس کا بائیکاٹ کریں، اور اس کے ساتھ کھانا پینا، لین دین اور سلام و کلام ترک کریں۔"

(فتاویٰ برکاتیہ، ص 224)

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

﴿وَإِمَّا يُنْسِيَنَّكَ الشَّيْطَانُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرَىٰ مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ﴾

ترجمہ: اور اگر شیطان تمہیں بھلا دے تو یاد آنے کے بعد ظالم لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو۔

لہٰذا اگر کوئی شخص ایسے حرام فعل پر اصرار کرے تو اصلاح و تنبیہ کے لیے اہلِ علم کی ہدایت کے مطابق اس سے بائیکاٹ کیا جاسکتا ہے۔ البتہ کسی کے ساس سسر یا دیگر رشتہ داروں کا محض رشتہ داری کی بنا پر بائیکاٹ کرنا اسی وقت ہوگا جب وہ اس گناہ کی تائید، معاونت یا سرپرستی میں شریک ہوں۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں:

"تعزیر بالمال منسوخ ہے اور منسوخ پر عمل جائز نہیں۔"

درمختار میں ہے:

«لا بأخذ مال في المذهب»

ترجمہ: مذہبِ حنفی میں مال لے کر تعزیر کرنا جائز نہیں۔

(فتاویٰ رضویہ، ج 5، ص 111)

لہٰذا قوم کے ذمہ دار افراد اگر واقعی اپنی قوم کی اصلاح چاہتے ہیں تو خود ساختہ فیصلے کرنے کے بجائے ہر معاملے کو محققین علماءِ کرام کی سربراہی میں حل کریں۔ ہر برائی کو مٹانے کا طریقہ اپنی طرف سے مقرر نہ کیا جائے، بلکہ پہلے شرعی حکم معلوم کرنا ضروری ہے۔ جو کام انسانوں کے نزدیک اچھا معلوم ہو، ضروری نہیں کہ وہ شریعتِ مطہرہ میں بھی جائز ہو۔

جس چیز کا حکم اللہ تعالیٰ اور رسولِ اکرم ﷺ نے نہ دیا ہو، اسے شریعت کا حکم قرار دے کر نافذ کرنا درست نہیں۔ لہٰذا ناحق مالی جرمانہ عائد کرنا اور زبردستی مال وصول کرنا ناجائز و گناہ ہے۔ دوسروں کی اصلاح کرنے سے پہلے انسان کو اپنی اصلاح کی فکر کرنی چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ سخت ہے۔

ناحق مالی جرمانہ — قرآن و حدیث کی روشنی میں

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ﴾

ترجمہ: اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقے سے نہ کھاؤ۔

(سورۃ النساء: 29)

ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿وَلَا تَعْتَدُوا ۚ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ﴾

ترجمہ: اور زیادتی نہ کرو، بے شک اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔

(سورۃ البقرۃ: 190)

رسول اللہ ﷺ نے خطبۂ حجۃ الوداع میں ارشاد فرمایا:

«إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ»

ترجمہ: بے شک تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے پر حرام ہیں۔

(صحیح البخاری، صحیح مسلم)

اور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ»

ترجمہ: نہ خود نقصان پہنچانا جائز ہے اور نہ دوسرے کو نقصان پہنچانا۔

(سنن ابن ماجہ، حدیث: 2341)

لہٰذا کسی مسلمان کے مال پر ناحق، زبردستی یا محض اپنی مجلس، پنچایت، برادری یا کمیٹی کے فیصلے سے لاکھوں روپے کا جرمانہ عائد کرکے وصول کرنا قرآن و حدیث کے مذکورہ اصولوں کے خلاف ہے۔

کسی مسلمان کا مال شرعی حق کے بغیر لینا جائز نہیں۔ شریعت کے نام پر ناحق مال وصول کرنا سخت گناہ ہے، لہٰذا اس سے فوراً باز آنا لازم ہے۔

وَهُوَ تَعَالَىٰ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ
ابو احمد محمد رضا نوری قادری حنفی دارالافتاء گلزار طیبہ تحقیق سینٹر

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ  سوال کیا فرماتے ہیں مفتیان اعظم مسلہ ذیل میں ہندستان کے کفار سے سود لینا کیسا اور ہندوستان کی بینکوں سے ملنے والا سود کا کیا حکم ہے اور کیا ہندوستان کے کفار حربی ہے ان سوالات کا جواب عنایت فرمائیں سایل محمد علی سانوا باڑمیر راجستھان  وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ الجواب وباللہ توفیق  تحقیق یہ ہے کہ ہندوستان کے کفار سے بھی سودی معاملات جایز نہیں اور ہندوستان کی بینکوں سے ملنے والا سود بھی حرام ہے اس رقم کو بغیر نیت ثواب کے  کسی غریب کو دے دیں اب آے اس مسلے پر تفصیلی گفتگو کرتے ہیں  دارالحرب کے سود میں جمہور فقہا کا نظریہ علامہ ابن قدامہ حنمبلی فرماتےہے دارالحرب میں سود اسی طرح حرام ہے جس طرح دارال اسلام میں سود حرام ہے امام احمد امام مالک امام اوزاعی امام ابو یسف امام شافعی اور اسحاق کا بھی یہی مزہب ہے امام ابو حنیفہ نے کہا کہ مسلمان اور حربی کے درمیان دارالحرب میں ربا جاری نہیں ہوگا اور ان سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ دو شخص دارالحرب میں مسلمان ہو گئے توان کے درمیان ربا (سود) نہیں ہوگا اور ان کے اموال مباح ہیں علامہ غلام رسول س...

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا حنفی دارالافتا۶ - 01/03/2025  کیا فرماتے ہے مفیان کرام کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کا اثر ہوا تھا اور ہوا تھا تو اس پر صحیح حدیث موجود ہے اور دوسرا سوال یہ ہے کہ صحیح بخاری کی اس حدیث کا کیا جواب ہے جس میں ہے کہ وحی رک گئی تو آپ نے اپنے آپ کو پہاڈ سے گرانا چاہا جواب عنائت فرمائے سائل محمد علی کچھ گجرات  الجواب و باللہ توفیق کسی بھی مسئلے میں قائدہ یہ ہے کہ اس کو قرآن کے سامنے پیش کریں گے اگر قرآن کے خلاف ہے تو اگرچہ حدیث صحیح ہو اس کو قبول نہیں کیا جائے گا آپ پر جادو کا اثر ہوا تھا اس پر جمہور مفسرین نے یہ ہی لکھا ہے تبیان القرآن جلد۔ اول صفہ ۱۰۴۸میں ہے  امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606  ھ لکھتے ہیں :- جمہور مفسرین نے یہ کہا ہے کہ لبیدبن اعصم یہودی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر گایرہ گرہوں میں جادو کیا تھا اور اس دھاگے کو ذروان نامی کنوئیں کی تہہ میں ایک پتھر کے نیچے دبا دیا تھا، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار ہوگئے اور تین دن آپ پر سخت گزرے، پھر اس وجہ سے معوذتین نازل ہوئیں اور حضرت جبریل نے آ کر آپ کو ...