نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

افضلیت ابو بکر صدیق کا انکاری

الجواب وباللہ توفیق 
۔حضرت مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوصدیق اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ پرفضیلت دینے والے شخص کے بدعتی ہونے کے بارے میں خلاصۃ الفتاوی،فتح القدیر،بحرالرائق،مجمع الانہر،الاشباہ والنظائر،ردالمحتاراور غنیۃ المستملی میں ہے : واللفظ لردالمحتار:”ان کان یفضل علیاکرم اللہ تعالی وجھہ علیھمافھومبتدع “ترجمہ:اگرکوئی شخص حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کوحضرت ابوبکراورحضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہماپرفضیلت دے ، وہ بدعتی ہے ۔(ردالمحتارمع درمختار،جلد06،صفحہ363،مطبوعہ کوئٹہ) 
حکیم الامت حضرت علامہ مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں: بعد انبیاء ابوبکر صدیق کا بڑا پرہیزگار ہونا بھی قرآن سے ثابت اور بڑے پرہیزگار کا افضل ہونا بھی قرآن سے ثابت  افضلیت صدیق قطعی ہے، اس کا منکر گمراہ ہے۔ (تفسیر نور

العرفان صفحه ۹۸۳)
حضرت ابوالبیان پیر محمد سعید احمد مجددی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: حضرت مجدد علیہ الرحمہ کے نزدیک افضلیت سیخین اور افضلیت عثمان کا منکر بدعتی ، گمراہ اور یزید بد نصیب کا ساتھی ہے۔ ( سرمایہ ملت کا نگہبان صفحہ ۱۵۵)(ضرب حیدری صفحہ 88)
حضرت علی مرتضیٰ فرماتے ہیں 
 اے اللہ ہم سے ہر بغض رکھنے والے پر لعنت بھیج  : اور ہم سے غالی محبت کرنے والے غالی پر بھی لعنت بھیج۔ (المصنف لابن ابی شیبہ جلدے صفحہ ۷ ۵۰ ،(ضربِ حیدری صفحہ 178) 
علماء کرام کی تصریحات سے معلوم ہوا کہ افضلیت ابو بکر صدیق کا انکاری بدعتی گمراہ بدنصیب ہے ایسے شخص کو سمجھانے کی کوشش کریں اسے ضرب مرتضیٰ کتاب کا مطالعہ کرواے اس کے باوجود وہ رجوع نہیں کرتا تو اس سے مسلمانوں کو دور رہنا چاہیے
صحیح مسلم کی حدیث ہے، قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بدمذہب اگر بیمار پڑھ جائے تو اس کی عیادت نہ کرو اگر مر جائے تو جنازہ میں شرکت نہ کرو ان سے ملاقات ہو تو انھیں سلام نہ کرو ان کے پاس نہ بیٹھوں نہ کھانا کھاؤ نہ پانی پیوں نہ ان کے ساتھ شادی بیاہ کرو الخ 📙 *انوار الحدیث صفحہ 103* 📕* *مسند امام اعظم صفحہ 23*  اس حدیث سے یہ بھی استدلال کیا جا سکتا ہے کہ جس کے عقائد اہلسنت سے موافق نہیں ہے اس سے دور رہنا چاہیے کہ اس کی صحبت سے عقائد خراب ہو سکتے ہیں واللہ اعلم بالصواب کتبہ ابو احمد محمد رضا نوری قادری حنفی دارالافتاء گلزار طیبہ تحقیق سینٹر 
نوٹ اس مسلے کو تفصیل سے سمجھنے کے لیے ہماری کتاب ضرب مرتضیٰ جو ہندی میں ہے اس کا مطالعہ کرنا بہت مفید ثابت ہوگا
------------------------رجوع نامہ و تصحیحِ سابقہ تحریر

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علیٰ سید الانبیاء والمرسلین۔

وضاحت و رجوع

راقم الحروف ابو احمد مفتی ایم۔ جے۔ اکبری اپنی سابقہ تحریر  جو دو سوال کے جواب میں تھا اس کے آخر حصے سے رجوع کرتے ہوئے وضاحت کرتا ہے کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی مطلق افضلیت اہل سنت وجماعت کا مسلمہ عقیدہ ہے، اور اس عقیدے کے دلائل راقم کی سابقہ تحریر میں بیان کیے جا چکے ہیں۔

البتہ سابقہ تحریر میں یہ لکھنا کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو کسی بھی اعتبار سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے افضل ماننے والا لازماً دائرۂ اسلام سے خارج ہے، نیز ایسے شخص کو مسجد میں آنے سے روکنے اور مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کرنے کا حکم دینا، ان الفاظ اور اس اطلاق کے ساتھ درست نہیں تھا۔ لہٰذا راقم ان عبارات سے رجوع کرتا ہے۔

کسی عقیدے کو غلط قرار دینا اور کسی معین شخص کو کافر قرار دینا دو الگ امور ہیں۔ کسی شخص کے عقیدے اور قول کی تحقیق کیے بغیر اس پر حکمِ کفر لگانا یا اس کے جنازے، تدفین اور دیگر شرعی معاملات کے متعلق قطعی حکم صادر کرنا درست نہیں۔ ایسے معاملات میں تمام متعلقہ شرعی تفصیلات کی تحقیق اور مستند علمائے کرام کی رہنمائی ضروری ہے۔

راقم کی اس وضاحت کا مقصد عقیدۂ اہل سنت سے رجوع کرنا نہیں، بلکہ سابقہ تحریر میں مذکور غیر محتاط اور غیر مشروط احکام کی اصلاح کرنا ہے۔ ہمارا عقیدہ وہی ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام کے بعد اس امت میں سب سے افضل حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں، پھر حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہم اجمعین ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں حق بات کہنے، اپنی علمی لغزشوں کی اصلاح کرنے اور عقائدِ اہل سنت کی صحیح ترجمانی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

✍️ ابو احمد مفتی محمد رضا نوری قادری حنفی
(مشہور بہ نام ایم۔ جے۔ اکبری)
دارالافتاء گلزار طیبہ تحقیق سنٹر

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ  سوال کیا فرماتے ہیں مفتیان اعظم مسلہ ذیل میں ہندستان کے کفار سے سود لینا کیسا اور ہندوستان کی بینکوں سے ملنے والا سود کا کیا حکم ہے اور کیا ہندوستان کے کفار حربی ہے ان سوالات کا جواب عنایت فرمائیں سایل محمد علی سانوا باڑمیر راجستھان  وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ الجواب وباللہ توفیق  تحقیق یہ ہے کہ ہندوستان کے کفار سے بھی سودی معاملات جایز نہیں اور ہندوستان کی بینکوں سے ملنے والا سود بھی حرام ہے اس رقم کو بغیر نیت ثواب کے  کسی غریب کو دے دیں اب آے اس مسلے پر تفصیلی گفتگو کرتے ہیں  دارالحرب کے سود میں جمہور فقہا کا نظریہ علامہ ابن قدامہ حنمبلی فرماتےہے دارالحرب میں سود اسی طرح حرام ہے جس طرح دارال اسلام میں سود حرام ہے امام احمد امام مالک امام اوزاعی امام ابو یسف امام شافعی اور اسحاق کا بھی یہی مزہب ہے امام ابو حنیفہ نے کہا کہ مسلمان اور حربی کے درمیان دارالحرب میں ربا جاری نہیں ہوگا اور ان سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ دو شخص دارالحرب میں مسلمان ہو گئے توان کے درمیان ربا (سود) نہیں ہوگا اور ان کے اموال مباح ہیں علامہ غلام رسول س...

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا حنفی دارالافتا۶ - 01/03/2025  کیا فرماتے ہے مفیان کرام کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کا اثر ہوا تھا اور ہوا تھا تو اس پر صحیح حدیث موجود ہے اور دوسرا سوال یہ ہے کہ صحیح بخاری کی اس حدیث کا کیا جواب ہے جس میں ہے کہ وحی رک گئی تو آپ نے اپنے آپ کو پہاڈ سے گرانا چاہا جواب عنائت فرمائے سائل محمد علی کچھ گجرات  الجواب و باللہ توفیق کسی بھی مسئلے میں قائدہ یہ ہے کہ اس کو قرآن کے سامنے پیش کریں گے اگر قرآن کے خلاف ہے تو اگرچہ حدیث صحیح ہو اس کو قبول نہیں کیا جائے گا آپ پر جادو کا اثر ہوا تھا اس پر جمہور مفسرین نے یہ ہی لکھا ہے تبیان القرآن جلد۔ اول صفہ ۱۰۴۸میں ہے  امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606  ھ لکھتے ہیں :- جمہور مفسرین نے یہ کہا ہے کہ لبیدبن اعصم یہودی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر گایرہ گرہوں میں جادو کیا تھا اور اس دھاگے کو ذروان نامی کنوئیں کی تہہ میں ایک پتھر کے نیچے دبا دیا تھا، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار ہوگئے اور تین دن آپ پر سخت گزرے، پھر اس وجہ سے معوذتین نازل ہوئیں اور حضرت جبریل نے آ کر آپ کو ...