الجواب وباللہ توفیق
۔حضرت مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوصدیق اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ پرفضیلت دینے والے شخص کے بدعتی ہونے کے بارے میں خلاصۃ الفتاوی،فتح القدیر،بحرالرائق،مجمع الانہر،الاشباہ والنظائر،ردالمحتاراور غنیۃ المستملی میں ہے : واللفظ لردالمحتار:”ان کان یفضل علیاکرم اللہ تعالی وجھہ علیھمافھومبتدع “ترجمہ:اگرکوئی شخص حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کوحضرت ابوبکراورحضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہماپرفضیلت دے ، وہ بدعتی ہے ۔(ردالمحتارمع درمختار،جلد06،صفحہ363،مطبوعہ کوئٹہ)
حکیم الامت حضرت علامہ مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں: بعد انبیاء ابوبکر صدیق کا بڑا پرہیزگار ہونا بھی قرآن سے ثابت اور بڑے پرہیزگار کا افضل ہونا بھی قرآن سے ثابت افضلیت صدیق قطعی ہے، اس کا منکر گمراہ ہے۔ (تفسیر نور
العرفان صفحه ۹۸۳)
حضرت ابوالبیان پیر محمد سعید احمد مجددی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: حضرت مجدد علیہ الرحمہ کے نزدیک افضلیت سیخین اور افضلیت عثمان کا منکر بدعتی ، گمراہ اور یزید بد نصیب کا ساتھی ہے۔ ( سرمایہ ملت کا نگہبان صفحہ ۱۵۵)(ضرب حیدری صفحہ 88)
حضرت علی مرتضیٰ فرماتے ہیں
اے اللہ ہم سے ہر بغض رکھنے والے پر لعنت بھیج : اور ہم سے غالی محبت کرنے والے غالی پر بھی لعنت بھیج۔ (المصنف لابن ابی شیبہ جلدے صفحہ ۷ ۵۰ ،(ضربِ حیدری صفحہ 178)
علماء کرام کی تصریحات سے معلوم ہوا کہ افضلیت ابو بکر صدیق کا انکاری بدعتی گمراہ بدنصیب ہے ایسے شخص کو سمجھانے کی کوشش کریں اسے ضرب مرتضیٰ کتاب کا مطالعہ کرواے اس کے باوجود وہ رجوع نہیں کرتا تو اس سے مسلمانوں کو دور رہنا چاہیے
صحیح مسلم کی حدیث ہے، قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بدمذہب اگر بیمار پڑھ جائے تو اس کی عیادت نہ کرو اگر مر جائے تو جنازہ میں شرکت نہ کرو ان سے ملاقات ہو تو انھیں سلام نہ کرو ان کے پاس نہ بیٹھوں نہ کھانا کھاؤ نہ پانی پیوں نہ ان کے ساتھ شادی بیاہ کرو الخ 📙 *انوار الحدیث صفحہ 103* 📕* *مسند امام اعظم صفحہ 23* اس حدیث سے یہ بھی استدلال کیا جا سکتا ہے کہ جس کے عقائد اہلسنت سے موافق نہیں ہے اس سے دور رہنا چاہیے کہ اس کی صحبت سے عقائد خراب ہو سکتے ہیں واللہ اعلم بالصواب کتبہ ابو احمد محمد رضا نوری قادری حنفی دارالافتاء گلزار طیبہ تحقیق سینٹر
نوٹ اس مسلے کو تفصیل سے سمجھنے کے لیے ہماری کتاب ضرب مرتضیٰ جو ہندی میں ہے اس کا مطالعہ کرنا بہت مفید ثابت ہوگا
------------------------رجوع نامہ و تصحیحِ سابقہ تحریر
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علیٰ سید الانبیاء والمرسلین۔
وضاحت و رجوع
راقم الحروف ابو احمد مفتی ایم۔ جے۔ اکبری اپنی سابقہ تحریر جو دو سوال کے جواب میں تھا اس کے آخر حصے سے رجوع کرتے ہوئے وضاحت کرتا ہے کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی مطلق افضلیت اہل سنت وجماعت کا مسلمہ عقیدہ ہے، اور اس عقیدے کے دلائل راقم کی سابقہ تحریر میں بیان کیے جا چکے ہیں۔
البتہ سابقہ تحریر میں یہ لکھنا کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو کسی بھی اعتبار سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے افضل ماننے والا لازماً دائرۂ اسلام سے خارج ہے، نیز ایسے شخص کو مسجد میں آنے سے روکنے اور مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کرنے کا حکم دینا، ان الفاظ اور اس اطلاق کے ساتھ درست نہیں تھا۔ لہٰذا راقم ان عبارات سے رجوع کرتا ہے۔
کسی عقیدے کو غلط قرار دینا اور کسی معین شخص کو کافر قرار دینا دو الگ امور ہیں۔ کسی شخص کے عقیدے اور قول کی تحقیق کیے بغیر اس پر حکمِ کفر لگانا یا اس کے جنازے، تدفین اور دیگر شرعی معاملات کے متعلق قطعی حکم صادر کرنا درست نہیں۔ ایسے معاملات میں تمام متعلقہ شرعی تفصیلات کی تحقیق اور مستند علمائے کرام کی رہنمائی ضروری ہے۔
راقم کی اس وضاحت کا مقصد عقیدۂ اہل سنت سے رجوع کرنا نہیں، بلکہ سابقہ تحریر میں مذکور غیر محتاط اور غیر مشروط احکام کی اصلاح کرنا ہے۔ ہمارا عقیدہ وہی ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام کے بعد اس امت میں سب سے افضل حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں، پھر حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہم اجمعین ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حق بات کہنے، اپنی علمی لغزشوں کی اصلاح کرنے اور عقائدِ اہل سنت کی صحیح ترجمانی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
✍️ ابو احمد مفتی محمد رضا نوری قادری حنفی
(مشہور بہ نام ایم۔ جے۔ اکبری)
دارالافتاء گلزار طیبہ تحقیق سنٹر
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com